Do you think recent suicide blasts are a reaction against Lal Masjid operation?
Attock
6°C
امریکہ کا نودو گیارہ مگر مسلمانوں کا کیوں نہیں
 
امریکہ میں ہر سال نائن الیون کے ہاتھی کے پاوں تلے کچلے جانیوالے امریکیوں کی یاد بڑے جوش و خروش اور وقار و تمکنت سے منائی جاتی ہے۔مرنے والوں کی ارواح کے سکون کے لئے مذہبی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ٹوئن ٹاور کی اگ میں بھسم ہونے والے انسانوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے موم بتیاں جلائی جاتی ہیں۔اور سچ تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے اہل دل انسان نائن الیون کے صہیونی و صلیبی مکر و فریب کی چٹانوں تلے دب کر موت کے سفرپر روانہ ہونے والوں کے لئے اپنی پلکیں تک بھیگی کرکے احترام انسانیت کا ملی نمونہ پیش کرتے ہیں۔کسی انسان کا تعلق خواہ دنیا کے کسی مذہب سے ہو، وہ کالا ہو یا گورا، مسلمان ہو یا عیسائی وہ چاہے دنیا کے کسی بھی براعظم سے تعلق رکھتا ہو اسکی بے گناہ موت پر پتھر دل انسان بھی اہ و فغاں اور کف افسوس ملنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔یورپ کو اپنی انسان دوستی اور حقوق انسانیت پر بڑا ناز ہے لیکن خاکسار کے زہن کی گدلی سوچوں میں ہر سال نودوگیارہ کے موقع پر ایک سوال بڑی روانی کے ساتھ ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے کہ ٹوئن ٹاورز کے خود ساختہ امریکی ڈرامے کے کتھارس کے طور پر افغانستان و عراق میں موت کی وادیوں میں جا بسنے والے لاکھوں بے گناہ افغانیوں و عراقیوں کی یاد کیوں نہیں منائی جاتی؟انسانی حقوق کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے والے مغربی باشندوں و یورپی حکمرانوں کی انکھیں بے گناہ مسلمانوں کی شہادت پر نم کیوں نہیں ہوتیں؟ امریکہ اور اسکے ظالم حلیف جب خدا کی زمین کو مسلمانوں کے مقدس خون سے سیراب کرتے ہیں تو اسوقت یورپئنز کو سانپ کیوں سونگھ جاتا ہے؟ ہر سال نو دو گیارہ کے موقع پر امریکہ کے غم میں شریک ہونے والے مسلم ڈکٹیٹروں و بادشاہوں سے بھی پوچھا جانا ضروری ہے کہ وہ ٹوئن ٹاور کی بربادی پر تو دھاڑیں مار مار کر امریکیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار فرماتے ہیں لیکن وہ افغانستان سے لیکر بغداد تک اور فلسطین سے لیکر لیبیا تک امریکی جارہیت کا نشانہ بننے والے مسلمانوں کی ہلاکت پر مگر مچھ ٹائپ انسووں کے ٹسوے بہا کر آخرت کی فکر کیوں نہیں کرتے اور انکے گورے چٹے اور لال و سپید چہروں پر احساس ندامت کیوں نہیں چھلکتا؟سچ تو یہ ہے کہ واشنگٹن کی غلامی میں جکڑے ہوئے مسلم حکمران سامراجی مظالم کے خلاف ایک حرف بولنے کے روادار نہیں بلکہ انہیں ہر وقت یہ دھڑکہ لگا رہتا ہے کہ کہیں وائٹ ہاوس کے بڑے گھوڑے کے ماتھے کی جبیں پر شکن نہ پڑ جائے یا ان کے پیروں کے نیچے سے ڈکٹیٹرشپ کا تخت نہ سرکا دیا جائے۔ نیٹو کی افواج قاہرہ نے افغانستان کے طول و عرض میں ایک ایک انچ پر بارود کی قالینیں بچھادیں۔امریکی طیاروں نے درجنوں مرتبہ وہاں شادی کی باراتوں پر میزائل برسائے۔لاکھوں لوگوں کی املاک نیست و نابود کر دی گئیں۔خوشیوں کے گہواروں کو ماتم کدہ بنادیاگیا۔یقین کیجئیی کہ گورے سورماوں نے افغانستان کے چپے چپے پر ظلم و ستم کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ چنگیز خانوں اور ہلاکو خان ایسے تاریخ ساز قاتلوں و جلادوں کی روح تک شرما گئی۔امریکی وحشت کی بھینٹ چڑھ جانے والے مرحوم افغانی بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کا کسی بھی طور پر نائن الیون کے سانحے کے ملزمان سے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی وہ کبھی امریکی مخالف کاروائیوں میں حصہ دار تھے۔بے گناہوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ اج بھی جاری و ساری ہے۔کسی درویش کی کہاوت ہے کہ جب انسانی جبلت میں حیوانیت اور درندگی کے عناصر شامل ہوجائیں تو پھر وہ احسن التقویم کے بلند قامت منصب سے اسفل السافلین کی پستیوں میں مگن ہوکر انسانوں کا لہو پینے میں مست ہوجاتا ہے۔یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان میں رقص بسمل باٹنے والے گورے فوجی انسانوں کے روپ میں بھیڑیوں کا روپ دھار چکے ہیں۔مغرب کے باضمیر دانشورPETER BURGAN نے لاس ایجنلس ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون( بے گناہ افغانیوں کی ہلاکتوں) میں سیاہ نصیب افغانیوں کی ہلاکت پر اشک بہاتے ہوئے لکھا ہے کہ جنازوں اور باراتوں پر سفاک ترین حملے اتحادیوں کے نذدیک معمولی کاروائی تصور کئے جاتے ہیں اور ان حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افغانیوں کی ہلاکت پر امریکی اور ہمرکاب اتحادی یہ دلیل دیتے ہیں کہ عسکریت پسند بھی باراتوں و جنازوں میں شامل ہوتے ہیں ۔یوں انتہاپسندوں کو نابود مٹی کرنے کے لئے بے گناہوں کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے۔peter لکھتا ہے کہ ایک کمزور موقف کو بنیاد بنا کر بے گناہوں کو قتل کیا جارہا ہے۔نیویارک ٹائمز کی صحافی خاتونkarlota gall نے اپنی رپورٹ میں چشم کشا حقائق کو یوں بیان کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے حال ہی میں جن افغان دیہاتوں پر بمباری کی بربریت برسائی تو وہاں تازہ کھودی جانے والی قبروں میں چھوٹی چھوٹی قبریں بھی ظاہر ہوئیں جہاں جنگی بھٹی میں راکھ کا ڈھیر ہوجانے والے بچوں کو دفنایا گیا تھا۔ایسی ننھی منھی قبروں کو دیکھر امریکی ترجمانوں کے یہ دعوے کھوکھلے نظر اتے ہیں کہ فوجی کاروائیاں صرف عسکریت پسندوں کے خلاف کی جارہی ہیں۔بے گناہ افغانیوں کی ہلاکت پر پوری افغان قوم بروفراختہ ہے اور اسی نفرت کی کوکھ سے افغان پٹی اور پاکستانی قبائلی علاقوں میں خود کش بمباری کا رواج روز بروز پختہ ہورہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال وہاں 136 خود کش حملے ہوئے جبکہ اس سال خود کش بمباری کا ہندسہ150کراس کرچکا ہے.پاکستان میں ہونے والے خود کش حملے اس کے علاوہ ہیں۔2006 میں 230 سویلین باشندے ہلاک ہوئے۔جن میں سے116 نیٹو کے چھنگھاڑتے جہازوں کی ظلمت میں مارے گئے2007 میں یہ تعداد تین سو سے تجاوز کرگئی جبکہ اس سال کے اٹھ مہینوں میں 290 بے گناہ مارے گئے جبکہ سچ تو یہ ہے کہ نیٹو کے ترجمان کی بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد میں کافی تضاد ہے کیونکہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں کی لائن کراس کرچکی ہے۔ بے گناہوں کی اموات پر جب عوامی سطح پر واویلا کیا جاتا ہے تو نیٹو کے جادوگر تحقیقات کا پتہ استعمال کرکے بری الذمہ بن جاتے ہیں۔افغانستان عراق کے مقابلے میں ابادی اور رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک ہے اسی لئے یہاں فضاووں میں ہر وقت دہشت و موت برسانے والے جنگی جہاز گھومتے پھرتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق امریکی طیاروں نے جنوری سے اگست تک افغانستان میں تین ہزار سے زائد فضائی حملے کئے۔امریکہ کو افغان قوم نے جارح ملک کا درجہ دیا ہے.وائٹ ہاوس نے افغانیوں کو جمہوری ازادیوں و معاشی خوشحالی کے جو سپنے دکھائے تھے وہ سب چور چور ہوچکے ہیں۔یوں افغانیوں نے اپنے ملک کو امریکہ کی استبدادیت سے ازاد کروانے کے لئے طالبان کی دستگیری و شفقت کا روز روشن فیصلہ کیا جسکے کارن نیٹو کے خلاف طالبان کی مزاحمت روز بروز بڑ ھ رہی ہے۔افغان قوم کو اج تک کوئی جارح قوم مسخر نہیں کرپائی۔سویت یونین سے لیکر برطانیہ تک اور سکندر اعظم سے لیکر چنگیز خان تک جس نے بھی افغانوں کی ازادی سلب کی اسے عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ مٹھی بھر طالبان نے جدید فوجی الات و موت کا رقص کرنے والے میزائلوں و غاروں تک سے اکسیجن چوس کر زندگی کے امکانات کو ہمیشہ کے لئے دفن کرنے والے کلسٹر بموں،توپوں اور ایٹمی بموں سے لیس نیٹو افواج کے لمبے لاو لشکر کو زچ کردیا ہے۔امریکیوں سے مسلمانوں کے ازہان و قلوب میں نفرت کے الاو دہک رہے ہیں.کیونکہ امریکہ نے افغانستان ایسے پر امن ملک پر ٹنوں کے حساب سے بارود برسا کر وہاں کے نوجوانوں کو مزاحمت پر امادہ کیا۔امریکہ نے طاغوتی مفادات کی پاسبانی کے لئے اس خطے میں خونی اتحصال کا بیج بویا تھا جو دہشت گردی انتہاپسندی اور خود کش بمباری کے پھلوں کی شکل میں ہویدا ہے۔امریکہ شکست کھا رہا ہے جو بیج اس نے کاشت کئے تھے اسی کی فصل اسے شکست کی صورت میں کاٹنی ہے۔امریکہ اور اسکے مسلم اتحادیوں کو یاد رکھنا چاہیی کہ جب اپ ایمان داری کا بیج بوتے ہیں تو اپکو اعتماد کا پھل نصیب ہوتا ہے جب اپ انکساری کا بیج بوتے ہیں تو اپکو عظمت نصیب ہوتی ہے ،جب اپ استقامت کا بیج کا شت کرتے ہیں تو اپکوکامیابی کا ثمر ملتا ہے لیکن اسکے برعکس جب اپ گھمنڈ کا بیج استعمال کرتے ہیں تو اپکو ناکامی نفرت اور بربادی کا درخت ملتا ہے،جب اپ عداوت کے بیج کے ساتھ کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں تو اپکو عوامی حقارت ہی نصیب ہوتی ہے۔امریکہ نے مسلم علاقوں میں ظلم و جبر، بارود کی بارش، میزائلوں کی یلغار،موت کی بھرمار، خون کی ہولیوں،تفرقہ بندیوں ، جارہیت پسندی لوٹ مار ،فتنہ گری اور تشدد کے جو بیج نائن الیوں کے موسم میں کاشت کئے تھے وہی اج مزاحمت و خود کش بمباری کی فصل کی شکل میں لہلہا رہے ہیں اور امید واثق ہے کہ امریکی بیجوں کی کوکھ سے جن سرفروش مجاہدوں نے جنم لیا ہے وہی امریکہ کوزلت امیز شکست سے دوچار کرنے والے ہیں جن کا اغاز ہوچکا ہے۔حرف آخر جس طرح امریکہ میں نائن الیون کے دلخراش وقوعے کی نذر بن کر ہمیشہ کے لئے عالم بالا کے سفر پر روانہ ہونے والے امریکیوں کی یاد میں نودو گیارہ کو جن یادوں کا تزکرہ کیا جاتا ہے تو عین اسی طرح مسلمانوں کو بھی بے گناہ مسلمانوں کی شہادت پر نو دو گیارہ کا اہتمام کرنا چاہیی۔
15-09-2008 01:00 Rauf Amir
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 15-09-2008 01:00. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 4 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 15-09-2008 01:00
Views: 337
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
Available characters: 600
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

2007-2009
< Prev   Next >