کیا وجہ ہے کہ پاکستا ن کو آزاد ہوئے آج ساٹھ برس ہونے کو ہیں لیکن نہ
تو سیاسی طور پر پاکستان اور اس کے عوام کی قسمت بدل سکی اور نہ اس کے
عوام معاشی خوشحالی کا منہ دیکھ سکے بلکہ ا س کے ساتھ ساتھ مذہبی قوتیں
بھی ان کا استحصال کرتی چلی آ رہی ہیں۔ پاکستان اور اس کے عوام کی قسمت
کیوں نہ بدل سکی ؟ اس کی وجہ جہاں بہت سارے عوامل ہیں وہاں ایک عمل سیاسی
قیادت کا فقدان بھی ہے جس کی عدم موجودگی کی بنا پر سیاسی طور پر پاکستان
اور اس کے عوام کی قسمت نہ بدل سکی ، پاکستان میں اچھی ، مدبر اور قابل
رشک سیاسی قیادت پیدا نہ ہو سکی اور اس فقدان کی وجہ ہمارے موجودہ
سیاستدان ہیں جنہوں نے پاکستان کے اندر ایک حقیقی سیاسی قیادت کو ابھرنے
ہی نہیں دیا۔یہ سب اب تک بات تو جمہوریت کی کرتے رہے ہیں، جاگیر داری،
وڈیرہ ازم کو ختم کرنے کا کہتے رہے جبکہ عمل اس کے بالکل الٹ رہا ہے ان
لوگوں نے جمہوری ہونے کا ثبوت دینے کی بجائے مورثی سیاست کو پروان
چڑھایااوریہ بھی ان سیاست دانوں کی بے اصولی ہی کا شاخسانہ ہے کہ آزادی
سے اب تک کے سارے عرصے میں آدھے سے زائد عرصہ تک ملک پر فوجی حکمران مسلط
رہے۔ اصولی طور پراس وقت ملک میں جو بھی قیادت موجود ہے وہ تیسرے اور
چوتھے درجے کی قیادت تو کہلا سکتی ہے مگر اول درجے کی قیادت کہلانے کی کسی
طور پر مستحق نہیں ہے۔ہاں جب جب فوجی جنتا ملک پر حکمران رہی اس کے
حکمرانوں کو موقع پرستوں اور بڑی طاقتوں نے اس وقت تک تو شاباش دی اور
شاندار کہا جب تک کہ ان کو ایسے حکمرانوں کی ضرورت تھی، تب یہ قیادتیں بھی
اول درجے کی قیادتیں کہلاتی رہیں اور ان میں ہر خوبی بھی پائی جاتی تھی
لیکن جب ان کی ضرورت ختم ہو گئی تو پھر یہی اول درجے کے لیڈر انتہائی پستی
کا شکار ہو کر رہ گئے یا ان کو اس قدر رسوا کر دیا گیا، ان کی قیادت میں
سو طرح کے کیٹر ے ڈالے گئے اور نقص نکالے گئے ، ایسے حکمرانوں کے وہ سا
تھی جو ان سے مفادات حاصل کرتے رہے ان کو یکسر فراموش کر بیٹھے۔ ان کی
قیادت کو باہر کے لوگوں نے تو قبول کیا سو کیا مگر عوام میں یہ لوگ کبھی
بھی مقبول نہ رہے اور یوں ہر آمر رسوا او ر ذلیل ہو کرنکلا۔ ویسے بھی اول
درجے کی قیادت حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وفات اور جناب لیاقت علی
خان کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی کیونکہ ان کے بعد جو بھی لوگ یا
قیادت بر سرِ اقتدار آئی اس نے ملکی مفاد کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کو
اولین جانا اور شاید اسی لئے حضرت قائدِ اعظم کی نگاہِ دربین نے یہ بھانپ
لیا کہ کہ ان کے اردگرد کیسے لوگ ہیں جن کے بارے میں آپ نے یہ فرمایا تھا
کہ" میری جیب میں اس وقت کھوٹے سکے ہیں "اور ان کھوٹے سکوں نے اپنے گنو
ؤنے کردار کی بنا پر قائد کے ان الفاظ کو سو فی صد درست ثابت کیا۔ان
لوگوں نے حقیقی قیادت کو ابھرنے ہی نہیں دیا بلکہ الٹا طرح طرح کی ریشہ
دوانیوں اور سازشوں میں مصروف رہے، اب بھی دیکھا جا رہا ہے کہ جو لوگ (جن
کو اس وقت میڈیا میں جنون گروپ کہا جا رہا ہے) جمہوریت جمہوریت کا راگ
الاپ رہے تھے اور وہ مشرف کے جانے کے فوری بعد ایک بار پھر سے فوجی قیادت
کو آوازیں دے رہے ہیں کہ وہ آئے اور آکر ہمارے مسائل حل کرے اور ہماری
ذاتی خواہشوں کو پورا کرے کیونکہ حقیقی جمہوریت کی موجودگی میں بہت سارے
ایسے عناصر کی اپنی مرضیاں نہیں چلتیں اور نہ ہی ان کی دال گلتی ہے۔
گذشتہ ساٹھ سالوں کا جائزہ لیا جائے تو ایوب خان اور اس کے بعد آنے والے
تمام سیاسی اور فوجی رہنماؤں نے اپنے ساتھ ساتھ اپنی اولادوں اور رشتہ
داروں کو مالی طور پر مستحکم کرنے اور ان کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا
اور ان کو اس طرح پروان چڑھانے کی کوشش کی کہ وہ ان کے بعد ان کے سیاسی
جانشین بن سکیں۔ ہمارے سامنے ہی ہے کہ بھٹو کے بعد ان کی بیگم اور پھر
بیٹی ان کی سیاسی وارث بنی جس کو اب صدر آصف علی زرداری نے سنبھال لیا
ہے، مولانا مفتی محمود کے بعد ان کی پارٹی کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے
پاس ہے، غلام مصطفےٰ جتوئی کے بعد اس کا بیٹا اس کا سیاسی جانشین ہے، خان
عبد االغفار کے بعد اس کا بیٹا خان عبد الولی اور پھر بیگم اور اب اسفند
یار ولی خان اس جماعت کے سیاسی وارث ہیں، آزاد کشمیر میں سردار عبد
القیوم خان سیاسی طور پر بوڑھے ہوئے تو ان کا بیٹا ان کا گدی نشین ہو گیا
، مسلم لیگ کا حال تو ویسے ہی سب سے زیادہ پتلا ہے کیونکہ اب تک پاکستان
میں چور دروازے سے جو بھی بر سرِ اقتدار آیا اس نے اپنی بقا کیلئے جو
پارٹی بنائی اس کا نام مسلم لیگ رکھ دیا اور عوام الناس کے سامنے اپنے آپ
کو قائد اعظم کا جانشین اور وارث بنا کر پیش کیا، اور اسطرح بہت ساری مسلم
لیگیں بن گئیں جن میںایوب خان کی مسلم لیگ، جونیجو کی مسلم لیگ، پیر پگاڑا
کی مسلم لیگ، اعجاز الحق کی مسلم لیگ، نواز شریف کی مسلم لیگ اور اب مسلم
لیگ قائدِ اعظم گروپ شامل ہیں۔ قائداعظم کا نام استعمال کرنے والی مسلم
لیگ کا حال اس وقت انتہائی قابلِ رحم ہے جس میں کبھی وہ سارے لوگ تھے
جنہوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے ابن الوقت ہونے کا ثبوت دیتے
ہوئے اپنی اپنی پارٹیاں چھوڑ کر اس نووارد پارٹی میں آ ٹپکے جو 2008ء کے
انتخابات کے بعد سب ہی نہ گھر کے ہیں اور نہ گھاٹ کے اور اب حال یہ ہے کہ
جس کا جدھر دل کرتا ہے منہ اٹھائے چلتا دکھائی دیتا ہے، کوئی مفادات کو
حاصل کرنے کیلئے پیپلز پارٹی کی طرف للچائی نظر سے دیکھ رہا تو کوئی مسلم
لیگ نواز گروپ کی طرف سے نظر کرم کا منتظر ہے اور یہ سب ڈرامے ملک کے وسیع
تر مفادات کی آڑ میں کئے جا رہے ہیں ۔ دوسری طرف اگر کہیں کسی کو کوئی
مرتبہ اور رتبہ نہیں مل سکا تو وہ عام کارکن تھے جو ایک جونئیر کارکن سے
سینئر تو ہو گئے مگر کسی قابلِ ذکر عہدے کے امین نہ بن سکے اسی طرح وہ لوگ
جن کے پاس مال و زر کی کمی تھی اور وہ الیکشن میں بے تحاشہ روپیہ پیسہ
لگانے سے قاصر تھے ان کو کسی انتخاب کے لئے کسی سیٹ کا ٹکٹ ہی نہ مل سکا
ایسا اگر ہوا تو فقط ایک بار ہوا جب پیپلز پارٹی کے پاس انتخابات میں کھڑے
کرنے کے لئے کوئی مال دار اسامی نہ تھی، کوئی وڈیرہ اس کا ممبر نہ ، کوئی
جاگیردار اس میں شامل نہ تھا اور بھٹو کو بہت زیادہ نششتوں کے جیتنے کا
یقین بھی نہ تھا تب اس کے الیکشن کے اخراجات بھی کوئی برداشت کر رہا تھا
اور اس کی انتخابی مہم بھی کوئی اور ہی چلا رہا تھا مگر ہو ا کیا؟ جب
الیکشن کے نتائج آئے تو بھٹو سمیت سب حیران اور ششدر رہ گئے کہ یہ کیا ہو
گیا ہے؟ تب بھٹو اور اس کی پارٹی مو قع پرستوں کو بھی اچھی لگنے لگ گئی
اور سب لوگ دھڑا دھڑ اس میں شامل ہونے لگ گئے اور عام ورکر کی حیثیت ثانوی
اور قربانی دینے والے جانور وںکی سی ہو کر رہ گئی مگر جب پارٹی پر برا وقت
آیا تو چوری کھانے والے سب ہی ساتھ چھوڑ گئے ۔ یہ وہ حقائق ہیںجن کی
وجہ سے کوئی بھی سیاسی پارٹی اچھے طریقے سے بالغ نہ ہو سکی اور نہ اس کے
ورکروں کی سیاسی تربیت ہی ہو سکی ان میں سے بہتوں نے جھولی چک اور کاسہ
لیسی کی روش اپنائی، لے دے کر ایک پیپلز پارٹی ہی بچتی ہے جو اب تک بہت
سارے حوادث ، سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود ابھی تک قائم ہے مگر اس
میں بھی تنظیم نام کی کوئی چیز نہیں اس کے ورکر جہاں اکھٹے ہوتے ہیں ہلا
گلا کرتے ہوئے ادھم مچادیتے ہیں کہ شرفاء کو اپنی عزت بچانی مشکل ہو جاتی
ہے پھر جب کسی نتظیم یا پارٹی میں کوئی اصول اور ضوابط ہی نہ ہوں اور جو
ہوں بھی ان کی رتی بھر پراہ نہ کی جاتی ہو، جمہوریت جمہوریت کہنے والوں کے
اندر جمہوریت نہیں بلکہ وہاں بھی شہنشاہت اور اصولِ وراثت کی کارفرما ہوں
تو پھر ایسے میں وہاں حقیقی ، مخلص اور قابل قیادت خاک ابھر سکے گی اور جب
فعال ، مخلص اور ایماندار قیادت ہی نہ ہوگی تو پھر وہاں کے لوگوں کی قسمت
کیسے بدل سکے گی؟
This entry was posted on 15-09-2008 13:14. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 8 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 15-09-2008 13:14 Views: 401
This article was favoured 8 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 15-09-2008 13:14
Views: 401