’’ ہم امریکہ کے غلام نہیں ‘‘ جی ہاں !ابھی وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی
کی اسمبلی میں کی گئی تقریر کے دوران اس فقرہ کی گونج بھی ختم نہیں ہوئی
تھی ۔کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نئے آنے والے صدر (جوبظاہر آصف
علی زرداری ہی ہوں گے۔ اور ان سطور کی اشاعت تک شاہد حلف بھی اٹھا چکے ہوں
)کے انتخاب سے ٹھیک دوروز قبل انگور اڈہ میں فضائی حملہ کر کے نہ صر ف بیس
معصوم شہریوں کو شہید کر دیا بلکہ پہلی بار جمہوری حکومت اور اس کے نئے
بصدر کو زمینی سلامی بھی دی گئی، جس میں اتحادی فوجوں نے بنفس نفیس آکر
سات افراد کو شہید اور اتنی ہی تعداد میں اتھا کر لے گئے ۔ اس واقعہ کو
پورے پاکستان میں نہ صرف انتہائی غم وغصہ کے عالم میں دیکھا گیا ۔اور شدید
مزمت کی گئی ۔ بلکہ دونوں ایوانوں میں متفقہ قرار داد مذمت پاس کی گئی ۔
ہمارے حکمرانوں نے بڑی عاجزانہ دھمکی نما لہجہ اختیارکرتے ہوئے اسے
بزدلانہ فعل ،اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے
کہا ہے۔ کہ حضور یہ تکلیف نہ کریں۔ ہم جو ان کو مار رہے ہیں ۔اس طرح تو
قبائلی عوام ہمارے ہاتھوں مرنے سے انکار کر دیں گے۔اور مقامی افراد دہشت
گردی کے خلاف تعاون سے بھی انکار کر دیں گے ۔ اس واقعہ پر امریکی سفیر کو
طلب کرکے سخت احتجاج کرنے کے ساتھ ہی ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے
بطور مذاق آہستہ سے یہ بھی کہہ دیا تھا۔کہ اب اگر دوبارہ حملہ ہوا ،توبھر
پور جواب دیں گے ۔شاہد یہ بات بھبی امریکہ بہادر کو ناگوارگزری ۔کہ انھوں
نے دوسرے روزپھر میرانشاہ میں ایک گھر پر گائیڈڈ میزائل حملہ کرکے چھ مزید
افراد کو شہید اور چار کو زخمی کر دیا ۔جس پر وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر
خان ہوتی نے کہا ہے۔ کہ امریکہ حملے معاملات بگاڑنے کی کوشش ہے ۔کاروائیاں
پاکستان کی خود مختیاری پر حملہ ہیں ۔جب کہ ایک بیان حسب روایت ہمارے وزیر
دفاع مختیارا عوان کا بھی آیا ہے ۔موصوف فرماتے ہیں ۔کوئی بات توہوگی۔ کہ
اتحادیوں نے حملہ کیا۔ یعنی آبیل مجھے مار کے مترادف ہمارے حکمران ان
پندرہ ارب ڈالر کی نمک حلالی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں ۔جن کی چمک وزیر اعظم
کے امریکی دورہ کے دوران دکھائی گئی تھی ۔جن ڈالروں کے عوض یہ طے ہوا تھا
۔کہ کاروائی ہم خود کریں گے۔حالاں کہ جتنے ڈالر ان کو صرف دکھائے گئے ہیں۔
ان سے ڈبل یعنی تیس ارب ڈالر حکمرانوں کی شاندار نااہلیوں کی وجہ سے کراچی
اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ چھ ماہ میں ڈوب گئے ۔کیونکہ موجودہ حکمرانوں کی
آمد پر ااس میں 72 ارب ڈالر تھا جو اب 42 ارب ڈالررہ گئے ہیں ۔اور ظاہرہے
مشرف کے دس ارب کے بدلے میں پندرہ ارب کی کارکردگی ذرا زیادہ ہی دکھانی جو
ہوئی ۔لیکن امریکہ بہادر ہے کہ اسے چین ہی نہیں آتا ۔جب تک ہمارے
حکمرانوں کی بڑھکوں کو شرمندگی کی مالا نہ پہنا دے ۔اور وہ پاکستانی عوام
کو یہ ثابت کرکے نہ دکھادے۔ کہ آپ کے حکمران ایویں کیو یںبڑھکیں مار کر
آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔مشرف ہوں کہ زرداری ہمارے لنگر پہ آتے ہیں
باری باری ۔اور اس طرح ان کی نوکری رہتی ہے جاری ۔۔ کیا یہ نوکری اسی طرح
جاری رہے گی ۔؟اور ہماری غیر وحمیت کا جنازہ نکلتا رہے گا ؟۔ عوامی حکومت
کے دعویدار یہ کیوں بھول گئے ہیں۔ کہ یہ عوام مشرف سرکار کے خلاف اسی لیے
نفرت کا زہر بھرے ہوئے ہے۔ کہ وہ امریکی پالیسیوں کا امین تھا ۔اور اب
جوعوامی حکمران بھی اسی راہ پر چل نکلے ہیں۔ تو عوام کا اعتمادبھی ان پر
سے اٹھ رہا ہے ۔اور یہ خطرناک صورت حال ہوگی ۔اس لیے فوری طور پر تمام
سیاسی جماعتوں اور گروپوں کی گول میز کانفرنس بلا کر امریکہ کی بڑتی ہوئی
جارحیت کو روکنے کی کوئی سبیل نکالی جائے ۔اور حالیہ حملوں کو جواز بنا کر
فوری طور پر قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسسز کی کاروائیاں بند کردی
جائیں ۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ باور کرایا جائے، کہ اگر ہمارے
تمام تر ایکشن کے باوجود امریکہ نے میزائل داغنے کے ساتھ ساتھ پہلی بار
زمینی آپشن بھی کھول لیا ہے۔ جوناقابل قبول ہے ۔ تو پھرہمیں کیا ضرورت ہے
دیشت گردوں پر گولیا ں برسانے کی ۔علاوہ ازیں قوم کو اعتماد میں لے
کرمغربی سرحدوں کی حفاظت کے لیے موئثر اقدامات کیے جائیں۔ اور کسی بھی
جارحیت کی صورت میں بھر پورجواب دیا جائے۔کیونکہ حالیہ کاروائیوں میں صرف
اور صرف عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔کوئی دہشت گرد یا امریکہ کو مطلوب کوئی
القاعدہ کا رکن گرفتار نہیں ہوا ۔اور اوپر سے نہ صرف امریکہ انتہائی
ڈھٹائی سے اس کاروائی کی ذمہ داری قبول کر رہا ہے۔ بلکہ آئندہ بھی ایسے
حملے کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ ایک طرف سارا ملک حالت جنگ کی سی کیفیت سے
دوچار ہے ۔ تو دوسر ی طرف حکمران مہنگائی اور افلاس کا تڑکا قوم کولگاتے
چلے آ رہے ہیں ۔بجلی مزید اکتیس فیصد مہنگی کرکے بھی وزیر موصوف راجہ
پرویز اشرف صاحب نے قوم پر یہ احسان فرمایا ہے۔ کہ آقاؤں کا تو حکم تھا
۔کہ اکسٹھ فیصدی مہنگی کرو ۔ہم نے تیس فیصد کم کی ۔راجہ صاحب چونکہ دیہا
تی بندے ہیں ۔سووہ بھی ہمارے ایک عزیز کی طرح آئی ایم ایف کو الو بنانے
میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے مزکورہ عزیز جو فوج میں
بھرتی ہونے سے قبل کبھی گاؤں سے باہر نہیں نکلے تھے ۔جب بھرتی ہوئے تو
ٹرینگ کے بعد ان کی پوسٹنگ پشاور کی طرف ہوگئی ۔پہلی بار چھٹی پر گھر آتے
ہوئے ۔پشاور سے بس پر سوار ہوتے وقت کنڈیکٹر کو کرایہ راولپنڈی کا دیا
۔اور گاڑی جب راولپنڈی سے قبل ہی ٹیکسلا پہنچی تو موصوف کنڈیکٹر سے آنکھ
بچا کر تیکسلامیں اتر گئے اور پھر اپنے گاؤں آگئے ۔ہمیں اپنے سفر کی
روداد مزے لے لے کر سناتے ہوئے بڑی سادگی سے بتایا ۔کہ اس نے ٹکٹ راولپنڈی
کا کٹوا یا اور کنڈیکٹر سے آنکھ بچاکر تیکسلا میں اتر گیاتھا۔اس طرح اسے
بے وقوف بنالیا۔حالاں کہ موصوف کویہ علم ہی نہیں تھا۔ کہ راولپنڈی ،ٹیکسلا
کے بعد آتا ہے ۔اور وہ کرایہ کم نہیں زیادہ دے آئے ہیں ۔سو پرویز اشرف
بھی قوم پر احسان فرماتے وقت یہ بھول گئے ہیں ۔قوم کی کی سانسیں منگائی سے
اکھڑ نے لگی ہیں ۔جو کہیں حکمرانوں کی سانسیں بند کرنے پر نہ تل جائیں
۔کیونکہ تنگ آمد بجنگ آمد۔
This entry was posted on 11-09-2008 14:26. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 4 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 11-09-2008 14:26 Views: 404
This article was favoured 4 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 11-09-2008 14:26
Views: 404