پی
پی کے نامزد امیدوار آصف علی زرداری نے تووقعات کے مطابق صدارتی انتخاب
کا معرکہ بھاری اکثریت سے سر کرڈالا۔ زرداری نے مشرفی امیدوار مشاہد حسین
اور نواز لیگ کے سعید الزماں کو ہیوی ویٹ شکست دی ۔ پی پی کے اصف زرداری
نے479 ووٹ لیکر انگشت بدنداں برتری سمیٹ لی۔ زرداری نے قومی اسمبلی اور
سینٹ کے مشترکہ مجموعے 436 میں سے 281جبکہ مشاہد اور نواز شریف کے بیعت
زدہ امیدوار (ر) جسٹس صرف 111 پر ڈیڈ ہوگئے جبکہ مسلم لیگ ق کی گاڑی کا
ٹائر تیس کی لائن پر پنچر ہوگیا ۔زرداری نے سندھ سرحد اور بلوچستان میں
کلئین سوئیپ کرکے پاکستان کی صدارتی تاریخ میں ریکارڈ قائم کرڈالا۔
پاکستان کے منتخب صدر کو پنجاب میں3 11سرحد107 بلوچستان 49ور سندھ سے162
ووٹ حاصل ہوئے .مسلم لیگ ق اور ن کی بدقسمتی کا روز روشن نظارہ سندھ میں
دیکھا گیا جہاں دونوں جڑواں بہنوں ق و ن کو صفر کا سہارا ہی مل سکا.یاد
رہے کہ ہر دور کی لیگوں کو ایک ہی تھالی کا بینگن کہا جاسکتا ہے کیونکہ
قائد اعظم اور قائد ملت کی وفات کے بعد ہماری ملی تاریخ میں جتنی لیگیں
منظر عام پر ائیں وہ امریت کی پیدوار ہیں.اور سچ تو یہ ہے کہ تمام لیگوں
کے تخلیق کار فوجی حکمران تھے۔ زرداری کی تاریخ ساز جیت سے ایک سچائی روز
روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ پی پی ہی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جو
مضبوط فیڈریشن کی علامت ہے.زرداری کو پاکستان کا متفقہ صدر نہ کہنازیادتی
ہوگی کیونکہ زرداری نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کی حمایت حاصل
کی امید کی جاسکتی ہے کہ زرداری ایک وفاق کی علامت بن کر چھوٹے صوبوں میں
پائے جانے والے احساس محرومی کو ختم کرکے نئے پاکستان کی تعمیر کو یقینی
بنائیں گے.۔صدارتی میچ میں پی پی کی جیت میں بھٹوز کے خواب جمہور کی تصویر
جھلک رہی ہے،ایوان صدر ہمیشہ سازشوں کا گڑھ بنارہا۔یوں قوم امید کرتی ہے
کہ زرداری کی تخت نشینی کے عرصہ میں ایوان صدر جمہوری روایات پر کاربند
رہے گا.خیبر سے کراچی تک بسنے والے پاکستانی بھی مبارکباد کے مستحق ہیں
کیونکہ انہوں نے بی بی کی شہادت کے عوض پی پی کو وزارت عظمی سمیت صدارت کا
ہما پہنادیا۔ پی پی کی فتح پر پورے ملک میں جشن کا سماں ہے سچ جانئیی تو
یہ نقطہ بھی اہم ترین اور لائق تحسین ہے کہ زرداری کی جیت سے بلوچستان میں
مرکز کے خلاف چلنے والی ازادی یا غداری کی تمام تحریکیں دم توڑ جائیں
گی.جس کا واضح اظہار بلوچستان اسمبلی کے ممبران نے صدارتی الیکشن میں پی
پی کے بیلٹ بکس بھر کرکیا۔پچھلے سال ستائیس دسمبر کو سابق وزیراعظم بے
نظیر بھٹو کو امرانہ اور انتہاپسندانہ قوتوں نے انتخابی مہم کے دوران ہی
شہید کرڈالا تھا.اس سانحہ دل اندوہ کے بعد پی پی کی قیادت نے ایک چشم کشا
نعرہ الاپا تھا کہ بی بی کی شہادت کا بہترین انتقام ملک میں جمہوریت کی
کارفرمائی میں ہے.ماضی میں ہمیشہ ایوان صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان رسہ
کشی ہوتی رہی ہے۔ایوان صدر پر قوت کے بل پر قابض رہنے والوں نے قوت کا
ارتکاز ہمیشہ اپنی ذات میں مرتکز کئے رکھا۔سابق صدور نے کئی مرتبہ فرعونیت
اور رعونت کے ہتھیاروں سے عوامی اسمبلیوں کو چلتا کیا۔ کئی نامی گرامی
صددور نے نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے ائین میں من پسند ترامیم کیں
۔یوں ائین پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔زرداری کی شہسواری میں قوم کے دل
اس یقین سے مالا مال ہوگئے ہیں کہ ایوان صدر ماضی کی امرانہ و ظالمانہ
روایات سے ہمیشہ کے لئے منہ موڑ لے گا۔زرداری سمیت تمام صدور پر کرپشن کے
الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔موجودہ صدر کے لئے حضرت عمرفاروق کا یہ فقرہ
رہبری کرسکتا ہے۔اولاد کے لئے دولت جمع کرنا اور اپنے عہدے کو مستقبل کے
لئے دولت انبار اکٹھے کرنے لئے استعمال کرنا اپنی آخرت کو برباد کرنے کے
مترادف ہے ۔پی پی مخالفت پر ہر وقت کمربستہ رہنے والوں کو جوانمردی سے
شکست تسلیم کرلینی چاہیی۔ پی پی نے شائد قائد عوام کی رحلت اور فاروق
لغاری ایسے محسن کش سیاسی گوریلے کی احسان فراموش بربریت اور بی بی کی
شہادت کے بعد کبھی بھولے سے بھی یہ خواب نہ دیکھا ہوگا کہ پی پی ایوان صدر
تک رسائی حاصل کرلے گی۔ لیکن زرداری کی قیادت میں پی پی لازوال قوت بن کر
ابھری اور بہت کم وقت میں ریاست کے دونوں اہم ترین عہدوں کو اپنے قدموں
میں ڈھیر کردیا.زرداری نے کڑے وقت میں پی پی کی قیادت کی جب پارٹی کی صفوں
میں مایوسی کی پرچھائیاں چھائی ہوئی تھیں۔اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ
زرداری نے ہمت و جنون کا پتوار تھاما۔ اور پھر ایک طرف اس نے پارٹی کو
ٹوٹنے سے بچایا تو دوسری جانب الیکشن میں فتح کا بگل بجایا۔ایک طرف زرداری
نے اوللعزمی و فراخ دلی سے اے این پی متحدِہ و دینی جماعتوں اور ن لیگ کو
اکٹھا کردیا تو دوسری طرف مشرف کے گرد سیاسی انداز و اطوار سے گھیرا تنگ
کیا یوں زرداری کی سیاسی عیاری و ثابت قدمی نے مشرف کو ماضی کے تاریک
طاقوں میں دھکیل کر قوم کے سامنے سرخرو ہوئے ۔اور پھر ڈنکے کی چوٹ پر
عوامی مینڈیٹ سے صدارت کی کرسی پر پہنچ گئے۔ٹیگور نے کہا تھا کہ اجالوں
میں تو ہر کوئی راہ دکھانے کا ناٹک کرتا ہے لیکن مزہ تو تب ہے جب چہار سو
پھلی تاریکی میں کوئی رہبر بن کر راہ دکھائے۔ زرداری کو ہمیشہ امروں اور
جمہوریت کے نام نہاد لیڈروں اور اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والوں نے مظالم
کے جہنم میں ڈالا.فرضی مقدمات میں انہیں آٹھ سال حیلوں بہانوں سے زندانوں
میں رکھا گیا۔اسے کولہو کا بیل بنا کر مشقت و تشدد کے کنویں کے چکر لگوائے
گئے لیکن وہ جم گیا ٹوٹا نہیں۔صدارت کا عہدہ زرداری کے لئے کانٹوں کی سیج
ہے.زرداری کو اژدھا کی طرح منہ کھولے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔پی پی
کو دہشت گردوں،امریکی مداخلت اور ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی غربت و
بے روزگاری کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔اور اپنی قوم کو شاہراہ جمہور کے درست
ٹریک پر چڑھانا ہے۔پاکستان کے موجودہ مہاراج کو جہاں ایک جانب پاکستان میں
آئے روز امریکیوں کی دراندازی کے سامنے بند باندھنا ہے تو دوسری طرف اسے
ایسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرنا ہے. انگرویزوں سے ورثے میں
ملنے والی کرشمہ ساز ایٹیبلشمنٹ عوام کا نعرہ لگانے والی جماعتوں اور
رہنماوں سے نفرت کرتی ہے۔ پی پی کے بانی بھٹوسے لیکر لیڈروں اور جیالوں سے
لیکر جمہوریت کے لئے جانیں قربان کرنے والے بھٹوز نے ہمیشہ اینٹی
ایسٹیبلشمنٹ سیاست کی ہے تاکہ عوام کو حکومتی امور میں شریک سفر بنایا
جائے۔جمہوریت کو پھلنے پھولنے کا موقع م مل سکے۔ ائین کی حکمرانی قائم
ہو.لیکن سچ تو یہ ہے کہ ایٹیبلشمنٹ کے قصابوں نے پی پی کو کبھی دل سے
تسلیم نہیں کیا کیونکہ پی پی کے منشور اور ایٹیبلشمنٹ کے مخصوص مفادات کا
دھارا ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف چلتا ہے۔دونوں کے فرق کو قائد عوام بھٹو نے
ایام اسیری میں تنصیف کردہ کتاب اگر مجھے قتل کردیا گیا میں یوں رقم
کیا۔بھٹو نے لکھا کہ دونوں (اشراف و غریب عوام) ایک دوسرے کی ضد ہیں،یہ
ندی کے وہ کنارے ہیں جو کبھی بھی ہم آہنگ نہیں ہوسکتے۔کیونکہ ایک کی موت
دوسرے کی زندگی اور دوسرے کی زندگی پہلے کی موت ہے۔ عوام کااستحصال کرنے
انہیں پچھلے ساٹھ سالوں سے مہنگائی بیروزگاری و غربت کی سفاک لہروں کے
سپرد کرنے اور جمہوری حکومتوں پر بار بار شب خون مارنے والی ایٹیبلشمنٹ
جرنیلوں سیاسی جادوگروں اور وڈیروں پر مشتعمل وہ ٹرائیکا ہے جو عوام کو
ہمیشہ غلامی کی بیڑیوں اور بھوک و ننگ کی زنجیروں میں جکڑنے کا ماٹو رکھتی
ہے جو پی پی اور زرداری کے منشور کا الٹ نقطہ نظر ہے جس نے اپنے مخصوص
مفادات کے تحفظ کے لئے ہمیشہ نت نئے تجربات کرکے ریاستی نظام میں ایسی
اتھل پتھل مچائی کہ پورا نظام بگڑ گیا۔پاکستان کے تین وزراعظموں قائد ملت
، قائدعوام اور بے نظیر بھٹو کو پھانسی اور بے رحمانہ موت کے سپرد کرنے
میں غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ ایسٹیبلشمنٹ کے مغرب نواز ایجنٹوں کا
کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔طبقہ اشراف کی سیاہ کاریوں اور مظالم کی
فہرست خاصی طویل ہے۔یوں ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں ۔پی پی کو
رحمن و کریم نے طویل عرصے بعد ملک و قوم کی حالت زار کو بہتر کربنانے،عدل
و انصاف کا نقارہ بجانے،فرقوں میں بھکرے ہوئے انسانوں کو دوبارہ یکجہتی کی
تسبیح میں پرونے،انتہاپسندوں کے خون ریز دلوں کو لطیف جذبات سے فتح
کرنے،سیاسی مخالفین کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے مٹانے والے گناہ کبیرہ سے
تہی داماں بنانے،افواج پاکستان کو بیرکوں تک محدود رکھنے،ازاد عدلیہ اور
خود مختیار پارلیمنٹ کی خواہش کو باراور بنانے،پی پی میں گھس بیٹھے عوام
کش لیڈروں کو میدان سیاست سے بھگانے اور امریکی غلامی سے نجات حاصل کرنے
کے لئے گولڈن چانس سے ہمکنار کیا ہے۔پاکستان کے منتخب صدر سے امید کی
جارہی ہے کہ وہ عوام سے ایفائے عہد کے تما وعدوں کو پورا کرے۔ایسٹیبلشمنٹ
کے طوفان بلاخیز کو ہمیشہ کے لئے روک دیا جائے۔پی پی کی قیادت وزیراعظم
اور صدارت کا عہدہ رکھنے کے باوجود عوام کے گھمبیر مسائل حل کرنے میں
ناکام ٹھری تو یہ ہماری سیاہ نصیبی ہوگی.قومیں بنتی اور ٹوٹتی بھی ہیں
لیکن اگر باہمت و دیانت دار لیڈرشپ درکار ہوتو پھر ایسی قومیں دوبارہ اپنے
پیروں پر کھڑی بھی ہوجایا کرتی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پی پی انتشار ذدہ
ملک کو کب دنیا کی باوقار قوموں کی فہرست میں سینہ تان کر کھڑا کرنے میں
کامیاب ہوتی ہے.زرداری کی جیت پر جشن منانا عوامی الفت کا جیتا جاگتا ثبوت
ہے۔پی پی کی جیت نے امریت کی طویل تیرگی کا سینہ چیر دیا ہے اور وہ وقت
بھی دور نہیں جب ہمارے ہاں کئی برسوں سے چھائی ظلمت کی شب دیجور پرنور
روشنیوں میں بدل جائے گی۔
This entry was posted on 11-09-2008 14:12. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 4 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 11-09-2008 14:12 Views: 354
This article was favoured 4 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 11-09-2008 14:12
Views: 354