| گیارہ ستمبر کا حادثہ |
امریکہ میں گیارہ ستمبر کو رونما حادثہ نا صرف افسوس ناک تھا بلکہ شرمناک
بھی تھا۔اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ گیارہ ستمبر کے حادثہ کا یہ دن
مسلمانوں کیلئے یوم ماتم ہے ۔ اس دن دشمنان اسلام کو دھشت گرد مذہب میں
تبدیل کرنے اور مسلمانوں پر دھشت گردی کا الزام عائد کرنے کیلئے یہ مذموم
و بزدلانہ حرکت کی تھی۔ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو صرف سیاسی فائدے کیلئے
امریکہ اور امریکی عوام پر حملہ آور دیکھانا تھا ۔ اور ان کو بدترین چہر
ہ دیکھا کر امریکی عوام کو آمادہ کرنا تھا۔ وہ مخصوص جماعت( ری پبلیکن)
کی طرف مائل ہوجائیں۔اور اس جماعت کو ووٹ کریں۔مسلم دنیا میں دھشت گردی کی
تشہیر صرف سیاسی فائدے کی خاطر ہے۔ ان کو دنیا کا ہر کونہ دھشت گردی کا
اڈا نظر آتا ہے۔امریکہ کی طرف سے بنائے گئے الجزیرہ کے عربی و انگریزی
دھشت گردی کے پروپیگنڈہ کیلئے ہے۔ان پر جاری تخلیقی کیسٹوں سے پیدا کئے
گئے تخلیقی لیڈروں پر اگر کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو اس کا الزام ان پر
لگا کر اس کو مسلمانوں پر مہر ثبت لگانا ۔مذکورہ حادثہ ایک حکمت عملی کے
تحت ترتیب ہوا۔ مگر اس کی زمہ داری دو سال بعد تخلیقی لیڈروں سے کیسٹوں
میں دھمکی آمیز بیان کے ساتھ کرائی گئی۔ اور القاعدہ کی تخلیقی کیسٹوں سے
ایک ایسے وقت قبول ہوئی۔ جب امریکہ میں صدارتی الیکشن کا چنائو پرچار ختم
ہوا۔ امریکی ووٹ پڑنے سے صرف ایک دن پہلے۔ تاکہ ان کا مدمقابل ڈیموکریٹ
امیدو ار کوئی بھی حربہ استعمال نہ کرسکے۔اور بے بسی میں صرف اور صرف کاری
شکست سے دوچار ہوجائے۔یہ حادثہ اس دن ایسا لگا تھا۔ کہ اس سے امریکہ عوام
کو دانشتہ گمراہ کیا گیا۔اس لئے یہ حادثہ امریکی چنائو میں سیاسی فائدہ
حاصل کرنے کی ایک طے شدہ حکمت عملی تھی۔ جس میں امریکن ڈیموکریٹک کو
زبردست سیاسی نقصان ہوا۔جس سے یہ بات حقیقت میں بدل جاتی ہے ۔ کہ مسٹر بش
صاحب نے اپنے حریفوں کو سیاسی طور پر کچلنے کیلئے۔اپنی اس سیاسی حکمت سے
بھر پور فائدہ اٹھایا۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔کہ یہ حادثہ دھشتگردی کو مذید تقویت پہنچانے کیلئے وجود میں لایا گیا۔ کیونکہ امریکہ میں ایک سیاسی جماعت کا یہ ایک سیاسی ایشو ہے۔ ’’ دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘‘ حالانکہ اس جنگ میں صرف امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دینی ہوتی ہے۔یہ حادثہ حقیقی جنگ نہیں بلکہ سیاسی جنگ کیلئے تھا۔ اس بناوٹی جنگ سے مقابلہ آرائی کیلئے یہ گیارہ ستمبر کا حادثہ تیار کیا گیا۔اگر امریکہ میں چناوی جھمیلا نہ ہوتا۔ تو شاید یہ حادثہ کبھی بھی رونما نہ کرایا جاتا۔
اس حادثہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کہ امریکہ ،برطانیہ و یورپیں ممالک میں اسلام کی بڑھتی مقبولیت جس کی وجہ سے وہاں کے عیسائی احباب مذہب اسلام پر تحقیق کرکے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس میں شمولیت کی تحریک پارہے تھے۔ اس پر روک و قد غن لگانے کیلئے ایسا حادثہ ضروری سمجھا جارہا تھا۔جس سے امریکن ری پبلیکن پارٹی کے لوگوں کے تعداد دن بہ دن گھٹتی جارہی تھی اور امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگوں کی تعدا د بڑھتی جارہی تھی۔جو مسٹر جارج بش صاحب کیلئے لمحہ فکریہ بنی ہوئی تھی۔اس حادثہ کے وقوع پذیر ہوتے ہی اس کو مسلمانوں سے جوڑ دیا گیا۔ یہ حادثہ رونما ہوتے ہی الزامات کی بوچھاڑ مسلمانوں پر کی گئی۔ حا لانکہ اس طرح کے حالات میں امریکہ میں پہلے چھان بین ہوتی ہے۔ مگر اس کی ضرورت نہیں سمجھی گئی ۔ حادثہ کا مقصد سیاسی فائدے کیلئے اسلام اور مسلمانون کو بدنام کرنا تھا۔جس میں ان کو کامیابی ملی۔ مذکورہ حملہ تجارتی ٹاور پر نہیں۔ بلکہ مذہب اسلام پر حملہ تھا۔ اس لئے یہ دن مسلمانوں کیلئے یوم ماتم ہے۔ کیونکہ اس دن مذہب اسلام کی تبلیغ کو زبردست نقصان پہنچایا گیا۔ ۔ اس لئے دنیا کے مسلمان اس دن کو یوم ماتم کے طور پر منائیں۔ اگر مسٹر بش کے قائم کردہ الجزیرہ کے انگریزی و عربی چینل سے کوئی بھی تخلیقی القاعدہ وطالبان لیڈر امریکہ کے خلاف سیاسی فائدہ پہنچانے کیلئے دھمکی آمیز بیان جاری کرتا ہے۔ تو اس کو اس مخصوص دن امریکی ری پبلیکن پارٹی کے جھنڈوں کا لباس پہناکر ان کے پتلے نذر آتش کئے جائیں۔ یوم ماتم اس طرح منانا چاہیئے ۔ تخلیقی کیسٹوں سے پیدا اسلام دشمن تحریک القاعدہ و طالبان ایک سیاسی فائدے کے حصول کی حکمت عملی ہے۔ یہ مکھوٹے مسٹر بش صاحب کی حکمت عملی کو کامیاب بنانے کیلئے وجود میں لائے گئے ہیں۔اور سب کے سب مخصوص جماعت کے سیاسی نمائیندے ہیں۔ الیکشن جتانے کیلئے ان سے اسی اوچھی حرکتیں کرائی جاتی ہیں۔ اس سے اسلام و مسلمانوں کا تو تماشہ بنایا جا تا ہے۔ان مکھوٹوں کی تشہیر بھی زور دار انداز میں کی جاتی ہے۔تخلیقی کیسٹوں کے اجاگر ہوتے ہی ۔اس پر جارج کا بنائوٹی ردّ عمل بھی گمراہیت سے بھرا ہوتا ہے۔ ساتھ اسی حرکتوں سے امریکہ میں امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی حاشیہ پر پہنچایا جاتاہے ۔اگر امریکہ میں مسٹر بارک اوبامہ کی جماعت ۔۔اس حکمت سے آگاہ ہوکر وہ بھی مسٹر بش کے قائم کردہ الجزیرہ کے انگریزی و عربی چینل سے پیدا تخلیقی مکھوٹوں کے پتلے بش کی پارٹی کے جھنڈے کا لباس پہناکرامریکہ میں اس سلسلے کا آغاز کرے تو۔ تو دھشت گردی پھیلانے کی حقیقت منظر عام پر آجائے گی۔ اور اس اقدام سے بش پارٹی کی شکست کی بوکھلاہٹ قبل از وقت ہی نظر آنے لگے گی۔
بہرحال ۔ امریکہ میں مذکورہ حادثہ حضرت امام حسین ؓ کو قتل کرنے جیسا ہے۔ کیونکہ اس اقدام سے مذہب اسلام پر حملہ ہوا ہے۔ اس لئے گیارہ ستمبر کا دن عالم اسلام کے مسلمانوں کیلئے یوم ماتم ہے ۔ اور تما م مسلمان اس دن ماتم زدہ ہیں۔آج اسلام دشمن لوگ اسلام پر اسلامی حلیہ شکل میں حملہ آور ہیں ۔۔ جوکہ کسی ماتمی المیہ کم نہیں۔
چونکہ اس حادثہ کے تحت ۔۔۔ امریکن ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست دی گئی۔اس لئے ان کیلئے بھی یہ ماتم کا دن ہے۔اوراگر وہ اس ماتم کو دھشت گردوں کے پتلے نذر آتش کرکے منایا جائے۔ تو زیادہ اچھا ہے۔ مسٹر بارک اوبامہ کو شکست دینے کیلئے دھشت گردی پھیلانے کی یہ حکمت عملی اس بار کتنی کارگر ہوتی ہے ۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائیگا۔ مگر تخلیقی القاعدہ و طالبان کا وجود تو سیاسی ہے۔اگر اس کو نا پہچانا گیا ۔ تو اس کے سہارے بش کی پارٹی پھر ایک نئی ہیٹرک بنائے گی۔
لہذا۔ گیارہ ستمبر کا یہ حادثہ ۔ مسلمانوںو امریکن ڈیموکریٹ کیلئے یوم ماتم بن گیا ہے۔ اس سے دونوں کو ہی نقصان پہچایا گیا۔اور دونوں ہی اس حادثہ پر امریکی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہوں۔اس کو سیاسی طور پر مرتب کرنے والوں سرزنش کریں۔دھشت گردوں کے پتلے نذر آتش کرکے اپنے انوکھے احتجاج کو دنیاکے سامنے درج کرائیں ۔ جس سے ایسا حادثہ رونما کرنے کی کوئی سیاسی کوشیش پھر کوئی نہ کرسکے۔اور دنیا کو مسٹر جارج بش کی ہوائی دھشت گرد حملوں کی مہم سے بچایا جاسکے۔وہ ناگہانی طور پر بے قصوروں کو قتل کراکر خون آلود سیا ست انجام دے رہے ہیں اور اس سے سیاسی فائدہ حاصل کررہے ہیں۔۔۔۔؟ جوکہ بڑے دکھ کی بات ہے۔
Users' Comments (1) |
|
![]()
12-09-2008 22:41, , Guest Its true of American policy against Muslims of all over the world. |
||
|
| < Prev | Next > |
|---|






(0 vote)
This article was favoured 3 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 11-09-2008 13:29
Views: 687