سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف نے کولن پائول کے ایک ہی فون پر ڈھیر ہو
کر ایک طرف افغانستان کے اندرطالبان کی مستحکم حکومت ختم کردی جو حقیقت
میں پاکستان کیلئے دفاعی لائن کی حیثیت رکھتی تھی اور دوسری طرف پاکستان
کو ان گنت خطرات سے دوچار کردیا ہے بالخصوص قبائلی علاقے جنرل پرویز مشرف
کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں آج پتھر کے دور میں پہنچنے والے ہیں
افغانستان کے اندراگر طالبان کی حکومت قائم ہوتی تو امریکی افواج
افغانستان کے اندر اتنی آسانی اور جلدی سے اپنی جڑیں مضبوط نہیں کرسکتی
تھیں اور نہ ہی آج ہندوستان کو افغانستان کے اندر اپنے سفارت خانے اور
قونصل خانے قائم کرنے کا موقع مِل جاتا بحر حال افغانستان کے اندر سے آج
پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے یہود و ہنود کی سازشیں عروج پر پہنچ
گئیں ہیںپاکستان کے پالیسی سازوں نے افغانستان کو میدان جنگ بنانے کی
بجائے پرائی جنگ قبائلی علاقوں میں شروع کردی جو ہر لحاظ سے تباہ کن ثابت
ہورہی ہے اپنی افواج اور طالبان نے قبائلی علاقوں میں ایک دوسرے کا بہت
زیادہ نقصان کردیا ہے جو نہیں کرنا چاہئیے تھا اور سب سے زیادہ عام قبائلی
عوام کو اس جاری محاذ آرائی میں صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں وزیرستان سے
لیکر باجوڑ تک لاکھوں قبائلی عوام نے اپنے ہی ملک میں ہجرت کرکے ایک نئی
تاریخ رقم کی ہے اور پہلی بار قبائلی خواتین بہت بڑے پیمانے پر اپنے گھروں
کی چاردیواری سے نکلنے پر مجبور ہوئیں جوحقیقت میں یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
اب خیبرایجنسی کی باری ہے یہاں سے بھی لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہونگے
حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے غلطی پرغلطی کی ہے اگر امریکہ کیساتھ لاجسٹک
سپورٹ کا معاہدہ نہ کیا جاتا تو آج افغانستان کے اندر اتحادی افواج
مونچھوں کو تائو دینے کی پوزیشن میں نہ ہوتیں پھر جب طالبان اور مزاحمت
کاروں نے ان کے مال پر تابڑ توڑ حملے کئے ،ڈرائیورز اور کلینرز اغواء اور
قتل کئے تو اس وقت یعنی بہت پہلے اتحادی افواج کو سپلائی بندکرنے کا بڑا
اچھا جواز موجود تھا اور ویسے بھی عام قبائلی امریکہ اور اتحادی افواج کو
ہر قسم کی سپلائی کوجائز نہیں سمجھتے ہیں دیر آئید درست آئید کے مصداق
اگر پولیٹیکل ایجنٹ خیبر نے افغانستان کو سپلائی بند کرنے کا اعلان کیا تو
اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمران یہ
دبائوبھی برداشت نہ کر سکے اس فیصلے کو برقرار رکھنے کی ضرورت تھی اس سے
ایکطرف قبائلی ٹرانسپورٹرز کو مزاحمت کاروں کے قاتلانہ حملوں سے نجات مل
جاتیں اور دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں پر آئے روز بلاجواز حملے
کرنے والی اتحادی افواج کو بھی معلوم ہوجاتا کہ پاکستان کی امداد کے بغیر
وہ افغانستان میں کچھ بھی نہیں کرسکتیں۔ قبائلی عوام انتہائی مایوسی
اور اضطراب کے شکار ہوچکے ہیں ایکطرف اتحادی اور امریکی افواج افغانستان
کی طرف سے فضائی اور زمینی حملے کرکے بے گناہ قبائلی عوام کو شہید کرتے
ہیں اور دوسری طرف سے اپنی ہی فوج نے ان کیخلاف اپریشن شروع کردیا ہے لیکن
اسکے باوجود بھی حالات کو کنٹرول نہیں کیاجاسکا فاٹا میں اس جاری کشمکش
کیوجہ سے قبائلی عوام اقتصادی ،تعلیمی اور معاشرتی لحاظ سے تباہی کی طرف
جارہے ہیں انکی صلاحیتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے کوئی بھی باشعور اور
سنجیدہ شخص اپنی زبان اور قلم کو آزادانہ استعمال کرنے کی جرأت نہیں
کرسکتا میں نہیں سمجھتا کہ آج قبائلی عوام کو کس جرم کی اتنی بڑی سزا دی
جارہی ہے الحمدللہ قبائلی عوام سب سے بڑھ کر اچھے مسلمان اور محب وطن
پاکستانی ہیں لیکن پھر بھی اپنوں کی وجہ سے آزمائش کا شکار ہیں میں
سمجھتا ہوں کہ اگر قبائلی علاقوں کیلئے مختص فنڈز انکی دیرپا ترقی پر خرچ
ہوجائیں اور ان فنڈز میں کرپشن نہ ہوجائیں تو اس سے قبائلی علاقوں کے اندر
تعلیمی اداروں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیاجاسکتا ہے اور جب تعلیم عام
ہوگی تو یقینا انتہاپسندی بھی کم ہوگی لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمران تعلیم
یافتہ ،باشعور اور سیاسی ذہن رکھنے والے قبائلی افراد سے ڈر اور خوف محسوس
کرتے ہیں اور یہ بات تو ٹھیک ہے کہ جب قبائلی عوام باشعور ہونگے تو پھر
کوئی بھی انکا استحصال نہیں کرسکتا قبائلی علاقوں میں سڑکوں کی حالت درست
کرنے کی ضرورت ہے اور اسطرح مواصلات کے دوسرے شعبوں کے استحکام پر بھی
بھرپور توجہ دینے کی گنجائش موجود ہے میں محسوس کررہا ہوں کہ اگر اسی
رفتار سے قبائلی علاقوں کے اندر بے چینی اورلاقانونیت برقرار رہی اور ہر
طرف سے قبائلی عوام کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو بہت بڑے پیمانے پر قبائلی
عوام فاٹا سے انخلاء شروع کردینگے جوکوئی نیک شگون نہیں میری معلومات کے
مطابق قبائلی عوام نے فاٹا کو خالی کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے
کیونکہ یہاں کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہر کوئی اپنے آپکو خطرے میں محسوس
کرتا ہے کبھی ہمارے حکمرانوں نے فاٹاکے عوام کو انسان سمجھ کر انکو اپنے
جائز انسانی،جمہوری اور آئینی حقوق نہیں دیئے آج پورے فاٹا پر ہر طرف سے
جنگ وجدل کے بادل چھائے ہوئے ہیں ہر طرف سے آہ وفریاد کی آوازیں سننے کو
مل رہی ہیں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی بزدلی کی سزا پوری قوم بھگت رہی
ہے جرات کیساتھ اپنی سرحدات کو محفوظ بنانے اور فاٹا کے اندر دوبارہ امن
وامان قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے لیکن اگر کوئی اس فریادکو سنے۔اب نئے
منتخب صدر پاکستان آصف علی زرداری کی آزمائش ہے کہ وہ کس طرح فاٹا میں
امن قائم کرتے ہیں۔
This entry was posted on 11-09-2008 13:24. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 3 time. . . .
You can leave a comment.
. . . Last update on 11-09-2008 13:24 Views: 400
This article was favoured 3 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 11-09-2008 13:24
Views: 400