Do you like new look of ATTOCK news website?
Attock
6°C
پروین توگڑیا کے دماغ پر آسیب کا سایا۔۔!
 
افسوس صد افسوس ویشو ہندو پریشد کے جنرل سیکریڑی کا بھائی پروین توگڑیا صاحب کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔جس سے ان میں ذہنی انتشار پیدا ہوگیا ہے۔ اور وہ دماغی طور پر بیمار پڑگئے ہیں۔ دیکھئے کیا حالات ہیں۔ کہ بھائی پروین توگڑیا صاحب ایک بہترین ڈاکٹر تھے۔ لیکن جب سے ان کے دماغ میں سوجن آئی ہے۔ اس وقت سے وہ مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہیں۔ان کے دوست احباب کہتے ہیں۔ کہ ان کے دماغ پر کسی آسیب کا سایا ہے۔ کسی پہنچے ہوئے حکیم ان کو مشورہ دیا ہے ۔ کہ وہ چلا چلا کر بولیں اس سے ان کے دماغ کو آرام ملے گا۔ انہوں نے جب اس طرح علاج شروع کیا تو ان کے پڑوسی ان کو پاگل کہنے لگے ہیں ۔جب ان کا دماغی توازن درست ہوتا ہے۔ تو ان کو پشیمانی ہوتی ہے۔ اب ان حکیم صاحب جن سے ان کا علاج چل رہا ہے۔انہوں صلاح دی ہے۔ کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لب کشائی کیا کریں۔جب انہوں نے اس طرح کا کام کرنا شروع کیا تو ان کے مزے آگئے۔اس لئے کہ ویشو ہندو پریشد کو ایسے آدمی کی ضرورت تھی ۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ان کو اپنے مشن پر لگالیا ہے۔ اور ان کو اپنا تنخواہ دار مقر ر کردیا ہے۔
فی الوقت بھائی پروین توگڑیا صاحب کوئی برے آدمی نہیں ہیں۔ انہوںنے کچھ سالوں پہلے ترشول بانٹے کی مہم چلائی تھی۔ جس میں انہوں نے کہا تھا۔ کہ ترشول دھارمک ہتھیار ہے۔ اس کو اپنے پاس رکھنا اپنی رکشا و دیش کی رکشا ہے۔ مسلمانوں نے ان کے اس قدم کی ستائش کی تھی۔ اور ان سے اصرار کیا تھا۔ اپنی رکشا ودیش کی رکشا کیلئے انہیں بھی ترشول چاہیں کہ ترشول وزنی اور پیتل کے ہونے چاہیں۔اس لئے کہ ہلکے پھلے ترشول مداریوں کے پاس ہوتے ہیں جو تماشہ دیکھاتے ہیں۔ اور چلے جاتے ہیں۔ہندوستان کا مسلمان جب پتنگ بازی،کبوتر بازی ، تیتر بازی ، گھوڑے بازی کرسکتا ہے۔ تو ایسے ترشول بازی کرنے میں کیا برائی ہے۔آج تک کسی بھی لیڈر نے مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ اگر بھائی پروین توگڑیا صاحب کچھ دے رہے ہیں۔ تو ان سے لے لو باقاعدہ تحریری تصدیق نامہ کے ساتھ۔ لیکن توگڑیا صاحب میں تھوڑی خراب عادت بھی ہے۔ کہ وہ ترشول صرف میڈیا کی موجودگی۔ میں تقسیم کرتے ہیں۔جب میڈیا والے چلے جاتے ہیں۔ تو وہ ترشول واپس لے لیتے ہیں۔ان کا یہ قدم انسانی تحفظ کے خلاف ہے۔ وہ ترشول تصدیق نامہ کے ساتھ ان کو دیں اس اعلان کے ساتھ کہ وہ ان سے واپس لئے نہیں جائیں گے۔مگر حیرت ہوتی ہے جب ہم مسلمانوں نے ان کے اس اقدام کی ستائش کی اور ترشول کے منتظر ہوئے ۔۔۔۔کہ اچانک مسلمانوں کے غم خوار لیڈر جناب پروین توگڑیا جی نے ترشول تقسیم کرنے کا سلسلہ ترک کردیا۔اب جب بھی وہ ترشول تقسیم کریں گے۔ مسلمان ان سے وہ ضرور حاصل کریں گے۔کیونکہ بھائی پروین توگڑیا صاحب کا یہ فرمان ہمیں خوب اچھی طرح یاد ہے۔ کہ ترشول اپنی رکشا اور ملک کی رکشا کیلئے اپنے پاس رکھنا بہت ضروری ہے۔لیکن یہ جان کر مسلمانوں کو بہت دکھ پہنچا ہے ۔ کہ وہ بہت زیادہ بیمار ہیں۔اور ان کے ذہن پر ابھی بھی آسیب کا سایا سوار ہے۔ان کا علاج چل رہا ہے۔ اور ابھی بھی وہ حکیم صاحب کے مشورہ پر عمل کررہے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف گلا پہاڑ پہاڑ کر چلانا یہ ان کے علاج کا حصّہ ہے۔
بہرحال ان کی مہم ہے۔ ترشول کے ذریعہ سے ہر شخص کی رکشا اور دیش کی رکشا ۔۔۔ اور مسلمان ان کے ان خوابوں کی تکمیل تک پہنچانے کے عہد پر قائم ہے۔ اور تصدیق نامہ کے ساتھ ان سے وہ ترشول ضرور حاصل کریں گے۔ بس وہ تو یہ چاہتے ہیں۔ کہ توگڑیا جی جلد سے جلد صحت یاب ہوجائیں۔ جس سے جلد سے جلد ان کے مشن کو پورا کیا جاسکے۔اسی لئے توگڑیا جی کے اعلان کے بعد ترشول مسلمانوں کی زندگی کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ اب ترشول کے بغیر مسلمان ادھورہ ہے۔
بہرکیف مسلمانوں کو ترشول دینے والے مسلمانوں کے لیڈر بھائی پروین توگڑیا صاحب اگر علاج معالجہ کیلئے آپ کو مسلمانوں کی خدمات درکار ہوں تو وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آپ ان کو آواز تو دیں ۔ پھر دیکھئے کہ مسلمان دیش کا اور یہاں کے لوگوں کا کتنا وفادار ہے۔ ان کے ایک ترجمان نے ایک بات بڑے پتے کی بتائی ہے۔ کہ جب بھی مسلمان ان سے ترشول مانگتے ہیں۔ ان کو بڑی ندامت و شرمندگی ہوتی ہے۔ اور جب سے ان کے دل و دماغ پر آسیب کا سایا پڑا ہے جب سے ہی انہوں نے ترشول کی تقسیم کا پروگرام ترک کردیا ہے۔ ہائے ہمارے پروین توگڑیا جی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟آپ کو یہ کیا ہوگیا۔
ایاز محمود
۱۰، ایس ایل ہائوس ،نزدیک ترکمان گیٹ ، آصف علی روڈ، نئی دہلی۔
۲ فون : 011-43524216
29-08-2008 01:00 Ayaz Mehmood
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 29-08-2008 01:00. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 4 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 29-08-2008 01:00
Views: 461
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
Available characters: 600
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

2007-2009
< Prev   Next >