Your Favorite GSM Service ?
Attock
7°C
صدارتی دوڑ میں کس کے جیتنے کے امکان ہیں ؟
 
اٹھارہ فروری کو ہونے والے الیکشن سے پہلے ہی پاکستان پیپلزاور(ن) لیگ نے جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لئے اپنی تمام گزشتہ رنجشیں اور کدورتیں ایک طرف رکھ کر پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ساتھ مل کر چلنے کی ایک نئی روایت کی بنیاد ڈالی جسے ملک کی اکثریت نے ملک کے لئے نیک فال قرار دیا تھا اور امید قائم ہوئی تھی کہ اب پاکستان کی سیاسی جماعتیں سیاسی طور پر میچور ہو گئیں ہیں اور کھنچا تانی کی وجہ سے جو ملک اور قوم کو نقصان ہوتا رہا ہے اس سے نجات مل جائے گی ،اس کولیشن نے اکٹھے رہ کر الیکشن بھی لڑا اور کامیابی بھی حا صل کی اور بعد ازاں اانتقال اقدار کے مرحلے پر بھی نہایت بالغ نطری کا ثبوت دیتے ہوے نہات خوش اسلوبی سے گزر گئے لیکن خدشات سر ابھارتے رہے کہیہ اتحاد اب ٹو ٹا کہ ٹوٹا حالنہ کہ کئی موڑ ایسے آے بھی کہ اتحاد ٹوٹ سکتا تھا مگر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری ہر مرحلے سے دامن بچا کر گزر گئے ان کی فہم اور تدبر کے نتیجے میں ہی صدر پرویز مشرف کو رخصت ہونا پڑا اور کوئی بڑا واقعہ بھی نہیں ہو ا جس کے ہونے کے کافی سے زیادہ امکانات تھے ،صدر مشرف کے جانے کے بعد ہی حکمران اتحاد کا اصل امتحان شروع ہو ا جس میں اتحاد ناکام ہوا اور حکمران اتحاد بلا آخر ٹوٹ گیااب اس توٹے ہوے اتحاد کی کرچیاں بکھر چکی ہیں اور یہ کرچیاں کس کس کے پاووں میں چبھتی ہیں اور کون کون زخمی ہوتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے ،مگر اس اتحاد کے ٹوٹنے سے قوم کو بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے اوران تجزیہ نگاروں کی بات سچ ثابت ہو گئی جو یہ کہتے تھے کہ یہ اتحاد زیادہ عرصے تک برقرا ر نہیں رہے گا بلکہ شیخ رشید احمد کو سیاسی پیش گوئےی کا لوگ امام سمجھنے لگ جائیں گے کیونکہ سب سے پہلے انہوں نے ہی اس کے ٹوٹنے کی پشین گوئی کی تھی ، اب آئندہ کا سیا سی منظر نامہ کیا ہو گا سیا سی پنڈت اس پر اپنی اپنی آراء کا ااظہار کر رہے ہیں،جبکہ اس وقت آئندہ ملک کے صدر کے حوالے سے بحث و مباحثہ جاری ہے بلکہ آصف علی زرداری تو باقائدہ صدر کے لئے نامزد بھی ہو چکے ہیں ان کے مقا بلے میں مسلم لیگ (ن) نے جسٹس (ر)سعید الزمان صدیقی کو صدر کا امیدوار قرار دیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ق) کی جانب سے سید مشاہد حسین کو امید وار قرار دیا جارہا ہے ، صدرات کی اس دوڑ میں سب سے زیادہ فیورٹ اور مظبوط امیدوار کے طور پر آصف علی زرداری کی پوزیشن مظبوط ہے کہا جا رہا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی حمایت کے بغیر بھی پیپلز پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے چھ ستمبر کو ہونے والے انتخاب میں کامیابی کے واضع امکانات ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کو صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے آئین کے مطابق پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے پچاس فیصد کی سادہ اکثریت یا تین سو باون اراکین کی حمایت درکار ہو گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت سینیٹ کے اراکین کی تعداد 100 ، قومی اسمبلی کے342، پنجاب اسمبلی کے 370 سندھ اسمبلی کے ایک166سرحد اسمبلی کے ا124اور بلوچستان اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد65ہے۔ واضح رہے کہ آئین میں درج صدارتی انتخاب کے طریقہ کار کے مطابق چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل ووٹوں کی تعداد 260بنتی ہے۔ جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جاتا ہے۔ اس طرح مجموعی ووٹوں کی تعداد2 70بنتی ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد ا125ہے جبکہ دوسری اتحادی جماعتیں جو آصف زرداری کے حق میں ووٹ دے سکتی ہیں ان میں متحدہ قومی مومنٹ کے پاس 25 ، عوامی نیشنل پارٹی کے پاس13، جمیت علما اسلام کے پاس7، مسلم لیگ فنکشنل کے پاس 5 اور پیپلز پارٹی شیر پاو کی ایک سیٹ کے علاوہ بارہ آزاد اراکین کو ملا کا مجوعی طور پر 188 ووٹ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کے کچھ ناراض اراکین بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے سکتے ہیں۔
سینٹ میں پیپلز پارٹی کے12سینیٹر ہیں جبکہ آزاد اراکین اور دیگر اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کی تعداد کو ملا کر کم و بیش 47بنتی ہے۔ اس طرح دونوں ایوانوں میں مجموعی طور پر د235 ووٹ آصف علی زرداری کو ملنے کی توقع ہے۔
صوبائی اسمبلیوں کی صورت حال کچھ اس طرح بنتی ہے ، صوبائی اسمبلیوں میں ، سب سے پہلے سندھ اسمبلی کے166 کے ایوان میں سے پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم ، اے این پی ، مسلم لیگ فنکشنل کے اراکین کی تعداد154بنتی ہے۔ لیکن آئین کے مطابق صوبائی اسمبلیوں میں صدارتی امیدوار کو پڑنے والے ووٹوں کو سب سے کم اراکین والی اسمبلی کی تعداد سے ضرب دے کی ایوان کی مجوعی تعداد پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس فارمولے کے مطابق سندھ اسمبلی میں آصف زرداری کے ممکنہ 154 ووٹوں کو بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی مجوعی تعداد 65سے ضرب دے کر سندھ اسمبلی کے مجموعی ایک166راکین کی تعداد سے تقسیم کیا جائے تو آصف زرداری کو ساٹھ ووٹ مل سکتے ہیں۔ اسی آئینی فارمولہ کے تحت کوئٹہ سے آصف زرداری کو65میں سے 57ووٹ مل سکتے ہیں۔ سرحد اسمبلی سے بھی 57ووٹ اور سب سے کم پنجاب اسمبلی سے20کے قریب ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ اس طرح چاروں صوبائی اسمبلیوں ، قومی اسمبلی اور سینٹ سے آصف علی زرداری کو کل 702میں سے چار 428 ووٹ ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے شاید پاکستان پیپلز پارٹی کوپاکستان کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی حمایت درکار نہ ہو۔
دوسری جانب ملک کی کچھ سیاسی جماعتوں ے بھی آصف علی زردای کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جن میں صوبہ سرحد سے قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان نے صدراتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی حمایت کا باضا بطہ اعلان کر دیا ہے۔ اسفند ولی خان کا کہنا ہے کہ اکثریتی پارٹی ہونے کے ناطے پاکستان پیپلز پارٹی کو صدارتی امیدوار چننے کا حق حاصل ہے جبکہ آصف علی زرداری کا تعلق بھی ایک چھوٹے صوبے سندھ سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی امن، وفاقی جمہوری نظام، عدلیہ، میڈیا کی آزادی اور صوبائی خودمختاری کے مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر آصف علی زرداری کو اتحاد کا امیدوار سمجھتی ہے اور چھ سمتبر کو ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد آصف زرداری ملک کے سیاسی نظام سے آمریت کے باقیات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے این پی ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کے لیے جمہوری قوتوں کے درمیان تعاون کو بہت اچھا سمجھتی ہے اور عوام کی نمائندہ جمہوری جماعتیں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم پروگرام پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گی۔ یہا ں یہ بتانا ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ آصف زرداری کی طرف سے صدارتی انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی حکمران اتحاد کی پہلی جماعت ہے جس نے زرداری کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا ہے جبکہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کی عہدہ صدارت کے لیے نامزدگی سے کے اعلان سے قبل ہی ان کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔
آصف علی زرداری کی شخصیت کے حوالے سے واقفان حال کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سوچ کو اپنے سائے سے بھی چھپائے رکھنا چاہتے ہیں جیسے یہی ایک امر ان کی ذاتی سیاست کے مستقبل کی واحد ضمانت ہے ۔ان میں ابھی بھی وہی بے چینی، توانائی اور ایک عجیب قسم کی بے قراری دیکھنے کو ملتی ہے جو اآج سے دا بارہ سال پہلے ان میں تھی ۔ اس دوران وہ جس قسم کی سیاسی الجھنوں کا شکار رہے، ان میں گھرے ہوئے شخص کو تو ہفتہ بھی سال برابر لگتا ہو گا۔ اتنے لمبے سیاسی سفر کے دوران کچھ تو بدلنا چاہیے تھا۔ لیکن نہیں بدلاآصف علی زرداری کے کاندھوں ر اس وقت بہت بھاری زمہ داری آن پڑی ہے ایک طرف ان کی پارٹی کے معا ملات ہے تو دوسری جا نب ملک کی صورت حال اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ اب کے بار اس ملک کی سیاسی قیادتیں کوئی ایسا کام نہ کر گزریں جس کے بعد انہیں عوام کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔
آصف زرداری کا صدر بننے کی خواہش رکھنا کئی اعتبار سے سمجھ سے بالاتر ہے۔ آخر وہ کسی بھی ایسے عہدے کی خواہش کیوںکر رہے ہیں جس کے اختیارات سلب کرنے کے لیے ان کی اپنی ہی جماعت نے ایک جامع آئینی اصلاحاتی پیکیج ترتیب دیا ہے۔ اور پھر ان کے صدر بننے کے بعد ان کی جماعت کا کیا ہو گا؟ سترویں ترامیم کا خاتمہ تو ضروری ہے کیونکہ اس ترمیم کے ہوتے ہوے کوئی تیسری بار وزیر اعظم نہیں بن سکتامگر پیپلز پارٹی کو تو اب ایسی کوئی مجبوری بھی نہیں لیکن 58.2 B کا خاتمہ بہر حال اس لئے ضروری ہے کہ فاروق احمد خان لغاری کے تلخ تجربے کے بعد آئین میں دیے گئے صدارتی اختیارات کو ختم کیے بغیر پی پی پی اپنے شریک چئرمین کے علاوہ کسی پر بھی صدارتی عہدے کے معاملے میں اعتماد نہیں کر سکتی۔ لیکن کیا پی پی پی کے پاس آصف علی زرداری کے علاوہ پارٹی سنبھالنے کے لیے کوئی ایک بھی امیدوار ہے؟ یہاں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہو گا کہ آصف علی زرداری کی ذاتی سیاسی قوت کا سرچشمہ ان کی پارٹی ہے نہ کہ ایوان صدر۔کیونکہ صد رنے تو ہمیشہ صدر نہیں رہنا لیکن پارٹی کے صدر یا چئیر میں و وہ ہمیشہ رہ سکتے ہیں ۔آصف زرداری کا یہ کہنا کہ ذوالفقار علی بھٹو صدر ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے چئیر مین بھی رہے۔ اس لیے صدر بن کر پارٹی چھوڑنا قطعی ضروری نہیں۔لیکن آصف علی زردای کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ وہ ذولفقار علی بھٹو بہر حال نہیں ہیں ۔اس لئے انہیں و بھی فیصلہ کرنا ہے وہ خوب سوچ سمجھ کر ہی کرنا ہے ۔
حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد ایک اور طرح کی بے چینی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی شدید تنقید کا شکار ہو جائے گی کہ اس نے اتحاد کو قائم رکھ کر جمہوری روایات کو مضبوطی اور طاقت دینے کی بجائے اپنی موجودہ سیاسی طاقت کو قائم رکھنے پر توجہ دی۔ گویا پہلے اگر مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی میں محض اعتماد کا فقدان تھا تو اب یہ فقدان کھلم کھلا سیاسی عداوت کی شکل اختیار کرے گا۔ اس کا کیا نتیجہ ہو گا؟
مسلم لیگ نواز کی پنجاب میں حکومت شدید دباؤ میں آئے گی۔ اسے ہٹانے کے لیے پی پی پی اور قاف لیگ میں گٹھ جوڑ ہو گا اور ملک کا سب سے بڑا صوبہ سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ ماضی میں اس طرح کی صورتحال زیادہ تر فوجی قیادت کے اکسانے پر پیدا کی جاتی تھی اور مناسب حالات کی شبیہہ بنتے کے ساتھ ہی حکومت وقت کو صدارتی اختیارات کے ذریعے چلتا کیا جاتا تھا۔ اس دفعہ مسلم لیگ کو شاید فوج سے ویسی حمایت حاصل نہ ہو کیونکہ اپنی مجبوریوں اور بیرونی دباؤ کے تحت فوجی قیادت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا کہ وہ موجودہ حکومت کو قائم رکھے۔
صدر کی جگہ ایک سیاسی مخالف اور سیاسی مداخلت سے باز فوجی قیادت کی موجودگی میں مسلم لیگ نواز ہر اس گلی میں جھانکے گی جہاں اسے حلیف ملنے کی توقع ہو۔ چھوٹی جماعتوں میں سے اسے نہ تو جمیعت علماء اسلام، نہ عوامی نیشنل پارٹی، نہ قاف لیگ اور نہ ہی متحدہ قومی موومنٹ سے سہارہ مل سکتا ہے۔ ایسے میں مسلم لیگ نواز نہ چاہتے ہوئے بھی مذہبی انتہا پسندوں کے قریب ہوتی جائے گی۔
یہاں سب سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی فوجی قیادت کی جانب سے ملک کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں میں زبردست تیزی کی پیشین گوئی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بعید از قیاس نہ ہو گا کہ جس طرح 2007میں ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی سیاسی، معاشی و سکیورٹی صورتحال میں صدر مشرف اپنے سیاسی حریفوں سمیت مذہبی انتہا پسندوں کی نفرت کا نشانہ بن گئے تھے اسی طرح آنے والے دنوں میں ان ناراض قوتوں کا ہدف شاید آصف زرداری بن جائیں۔اس ٘ؤنے والے وقت کے حولے سے پاکستان پیپلز پارٹی کیا پیش بندی کر رہی ہے اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن سر دست پاکستان پیپلز پارتی کو حالات ساز گار نہیں ملیں گے یہ سچھ ہے کہ اکستان پیپلز پارٹی عوام میں یک مقبول جماعت ہے مگر اسے یہ یاد رکھنا ہو گا کہ آج کا دور میڈیا کا دور ہے اور جو ا س کو استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہے وہ کئی طرھ کی مشکلات اور گیر مقبولیت سے بچا رہتا ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی اس حولے سے ہمیشہ کمزور رہی ہے اسے اپنی اس کمزور پر قابو پانے کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اسے حکومت سے باہر ناراض سیاسی قوتوں میں سے مذہبی انتہا پسندوں کی حمایت پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بن کر ابھرے گی اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہا پسند اپنی خونی تحریک پہلے سے زیادہ بھرپور اور موثر بنانے کی کوشش کریں گے۔ اور ایسا کرنے میں وہ پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہونگے کیونکہ ان کو حالات بگاڑنے میں ایک بڑی سیاسی جماعت کے علاوہ وکلاء برادری کا سہارہ بھی حاصل ہو گا۔ اس ممکنہ صورتحال کے پیش نظر صرف اتنا ہی سمجھ میں آتا ہے کہ آصف زرداری کا صدارتی امیدوار بننے کا فیصلہ شاید ان بہت سے تلخ فیصلوں کی خاطر ہو جو اب تک حکمران اتحاد کی اندرونی کشمکش کے یرغمال رہے۔ شاید آصف زرداری کے دماغ میں یہ سما گیا ہے کہ وزارت عظمٰی اور عہدہ صدارت پر مکمل اختیار کے بغیر ان کے لیے موجودہ مسائل سے نبٹنا ممکن نہیں اور یہ کسی نہ کسی حوالے سے سچ بھی ہے کیونکہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر اگر ایک سے زیادہ ڈرائیور ہوں تو ایسی گاڑی کے منزل مقصود پر پہنچنے کے چانسسز کم ہی ہوتے ہیں اور ایکیڈنٹ کا خطرہ الگ سے رہتا ہے ۔
دوسر ی جانب آصف علی زرداری کے صدر بنے کے بعد انہیں وکلاء تحریک کا بھی سامنا کرنا پڑے گا گو کہ وکلابرادری میں اس وقت بہت چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں معزول ججوں میں سے آدھے سے زیادہ نیا حلف اٹھانے کو تیار ہیں۔ شاید آصف زرداری کا بطور صدر پہلاا قدام یہ ہو کہ وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں معزول ججوں کو بحال کرنا شروع کر دیں۔ اگر وہ یہ کر پائے تو وقت کے ساتھ وکلاء تحریک خود ہی دم توڑ جائے گی۔ یوں کاروبار مملکت کو آگے بڑھانے میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہوجاے گی۔ اسی طرح اتحاد ٹوٹنے کے بعد آئینی اصلاحاتی پیکیج پر بھی مزید پیش رفت کے لیے اب انہیں مسلم لیگ نواز کو راضی کرنا لازم نہ ہو گا۔ شاید اسی لیے آصف زرداری اس بات پر قائل ہو گئے ہیں کہ آگے بڑھنے کے لیے مسلم لیگ نواز کو الوداع کہنا ضروری ہو گیا تھا۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ ان کا کونسا فیصلہ درست رہا اور کونسا غلط۔ لیکن موجودہ حالات میں آصف زرداری کا ایک طاقتور صدر کے طور پر ابھرنا پاکستان کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی ناکامی ملک کو مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی تصادم کی راہ پر دھکیل سکتی ہے جبکہ ان کی کامیابی پاکستان کو مشکلات کے گرداب سے نکالنے کی کنجی ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سیای جماعتیں اگر اس دور جسے جمہوری دور کہا جارہا ہے میں ناکام ہوئی تو یہ سرا سر جمہوریت کے لئے خسارے کا سودا و گا ،اور ملک میں انارکی پیدا ہنے کے بھی امکانات ہیں اس لئے ، فیصلہ تقدیر کا تیرے اپنے ہی ہاتھ میں ہے

29-08-2008 01:00 Zameer Afaqi
Quote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.us
This entry was posted on 29-08-2008 01:00. . . . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
This article was favoured 5 time. . . . You can leave a comment. . . .
Last update on 29-08-2008 01:00
Views: 411
Users' Comments (0)RSS feed comment
Average user rating
   (0 vote)

Comment an article
  Name
  E-mail
   Title
Available characters: 600
 Notify me of follow-up comments
This image contains a scrambled text, it is using a combination of colors, font size, background, angle in order to disallow computer to automate reading. You will have to reproduce it to post on my homepage
Enter what you see:

No comment posted

2007-2009
< Prev   Next >