Urdu Articles
ضلع اٹک کے آثار قدیمہ
 
ضلع اٹک میں اثار قدیمہ کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ جتنی خود بنی نوع انسان کی۔ دریا ہرو اور دریا سواں کے کنارے کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین آثار قدیمہ،ڈاکٹر پیٹرسن،ڈاکٹر ڈی ٹیرہ اور ڈاکٹر دھرمونڈ نے حجری دور کے انسانوں کے اوزار جو پتھر کے بنے ہوئے ہیں دریافت کیے،یہ پانچ ہزار سے دس ہزار سال پرانے ہیں جبکہ بعض ماہرین نے انسانی ہاتھوں سے چٹانوں پر کندہ آثار دریافت کیے، طبقات ارض کے آثار قدیمہ میں سے محکمہ آثارقدیمہ حکومت پاکستان نے چار جگہوں پر ضلع اٹک میں کھدائی کر کے جھنگ اور کھنڈا میں دو قدیم شہر دریافت کیے اور حاجی شاہ موڑ ،گل آباد اور حسن ابدال میں بدھ مت کی خانقاہیں اور اسٹوپے دریافت کیے۔ ان کا عہد ۳۵۰۰؁ ق م سے لیکر ۵۰۰ئ؁ تک کا ہے۔اس کے علاوہ ضلع اٹک کے چپے چپے پر اور خصوصاً تحصیل اٹک وادی چھچھ اور تحصیل حسن ابدال وادی پہنج کھٹہ میں آج بھی تہہ در تہہ خاک کے اندر آثار قدیمہ محفوظ ہیں جو مالکان زمین اور نوادرات چوروں کے ہاتھوں مزید تباہ و برباد اور ختم ہو رہے ہیںاس علاقہ کے چپے چپے پر پھیلے ہوئے آثار قدیمہ ماہرین طبقات الارض اور ماہرین آثار قدیمہ کو تحقیق اور ترقیق کی دعوت دے رہے ہیں۔آثار قدیمہ کا مطالعہ ایک باقاعدہ سائنس بھی ہے اور فن بھی تاہم شعور کی کھلی آنکھوں کے سامنے ابھرنے والے نقوش ہر کسی کے لیے کچھ نہ کچھ معنی ضرور رکھتے ہیں اور علوم آثار قدیمہ کی بنیاد اگر اندازے اور قیاس پر ہے تو ہر نیا اندازہ بھی اتنا ہی اہم ہو سکتا ہے جتنا کوئی مستند کلیہ،بشرطیکہ اس اندازے کی بنیاد حقائق پر ہو۔کسی بھی تہذیب کے اجزائے ترکیبی دریافت کرنے کے لیے جہاں موجود اشیائے ضرورت کی ہیئت،رسوم،لباس کی تراش، زبان اور عقائد کا مطالعہ ضروری ہے۔وہاں ان سے ماوراء زمینی اور آسمانی رشتوں کے مابین کھوئے ہوئے وقت کے انداز و اطوار کا پتہ دیتے ہیں۔ ضلع اٹک کا علاقہ کئی تہزیبوں کا مدفن ہے،موجودہ مقامی تہذیب کے خدوخال میں سے گمشدہ تہذیبوں کے اثرات کا سراغ اس مطالعہ کا ایک اور اہم زاویہ ہے۔
آثارضلع اٹک کی اس ہی اہمیت کے پیش نظر ضلع اٹک کے قدیم آثار کے کوائف اپنی تحقیقات،معلومات اور کتب کے حوالے سے لکھ رہا ہوں
گڑیالہ یہاں دریائے ہرو کے کنارے ۱۹۶۲ء ؁ میں مسٹر پیٹرسن اور ڈھرمونڈ نے پتھر کے زمانہ کے آثار دریافت کیے ،جہاں سے پتھر کے بنے ہوئے اوزار ملے ہیں۔
مکھڈ یہاں سے مسٹر گرازوسی نے ۱۹۶۴ئ؁ میں پتھر کے زمانہ کے آثار دریافت کیے یہاں سے بھی پتھر کے اوزار ملے ہیں۔ ۲۱ جولائی سے ۲۵ اگست ۱۹۸۰ئ؁ میں پنڈی گھیب کے قریب سل نالہ کے کنارے میال آئل فیلڈ ،سورگ اور کھڑپہ میں پتھر کے دور کے اوزار دریافت ہوئے
جھنگیہاں پانی کے چشموں کے کنارے ایک ٹیلے پر دو تہوں میں اوپر نیچے دو زمانوں کی آبادی کے آثار دریافت ہوئے۔۱۔ پہلا زمانہ
ماہر آثار یات ڈاکٹر رفیق مغل نے ابتدائی ہڑپائی تمدن ۳۵۰۰؁ق م سے ۳۲۰۰؁ ق م کا زمانہ متعین کیا ہے۔اس زمانے کے لوگ رگڑائی شدہ پتھر کی کلہاڑیاں،ناقص عقیق کے چاقو اور انتہائی چمکیلی پالش والے مٹی کے برتن بناتے تھے۔جن کا رنگ گہرا سرخ ہوتا تھا۔اس کے علاوہ پتھر کے چھلکا اوزار اور کھرچنے اور ہڈی کی نوکیں بھی ملی ہیں، اس زمانہ کے برتن سب کے سب چاک کے بغیر ہاتھ کے بنے ہیں۔ان کے پیندوں پر چٹائی کے نشانات ہیں۔یا تو یہ چٹائی پررکھ کر بناتے تھے یا کہیں اور بنا کر چٹائی پر سوکھنے کے لیے رکھ دیتے تھے ۔ان پر جو پالش کی گئی ہے وہ بعض برتنوں میں تو اندر اور باہر دونوں سطحوں پر کی گئی ہے اور بعض میں صرف خارجی سطح پر ہے۔ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر محمد عبدالحلیم نے اس بستی کا زمانہ آبادی ۳۱۰۰؁ق م سے ۳۰۰۰؁ق م متعین کیا ہے۔یہ نچلی تہہ میں ملے ہیں۔ ۲۔دوسرا زمانہ اوپر کی تہہ میں کوٹ ڈیجی تہذیب ۲۸۰۰؁ق م ۲۴۰۰؁ق م کے آثار ملے ہیں۔یہ لوگ جدید حجری دور کے آباد کاروں سے زیادہ فہم و فراست رکھتے تھے۔اس دور کے لوگ پتھر کے مکان بناکر رہنے لگے تھے ان میں مٹی کی خوب کٹائی کر کے فرش بناتے تھے۔وہ سست چاک پر اور بعد میں تیز رفتار چاک پر برتن بنانا جانتے تھے۔برتنوں پر مچھلی کے کھپروں،پیپل کے پتوں ،چار پنکھڑیوں والے پھول، گندم کے خوشے،ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوئے دائروں اور متوازی لہروں کی اشکال ان کی تہذیبی اور تمدنی ارتقاء کی غماز ہیں۔کوزہ گر،ٹونٹی والے لوٹے،بیضوی شکل کے گھڑے،نٹ۔بھڑولے،پیالیاں،تھ الیاں صراحیاں،آبخورے، اور چراغ جیسی اشیاء بناتے تھے۔تاہم سوراخ کرنے،کاٹنے،چھیلنے اور کوٹنے کے لیے پتھر اور ہڈی کے اوزار بدستور استعمال ہو رہے تھے۔مٹی کی چوڑیاں ،پتھروں کے منکے،سیپ اور کوڈیاں آرائش کے لیے استعمال ہوتی تھیں،تاہم تانبے کی بنی ہوئی سرمہ کی سلائیاں اور سوئیاں استعمال ہونے لگی تھیں۔بقول مرکور جی یہاں سے ناگ دیوتا کے مٹی کے بنے ہوئے بت بھی ملے ہیں۔
جھنگ سے دریافت ہونے والی تمام اشیاء ٹیکسلا کے عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔
کھنڈا
یہاں سے بھی محکمہ آثار قدیمہ نے جدید حجری دور ۲۷۰۰؁ق م سے ۲۴۰۰؁ ق م تک آباد بستی کے آثار کھودے ہیں اس جگہ سے حجری کلہاڑیاں،چاقو،کھرچنے،ہڈی کی نوکیں پتھر اور مٹی کے منکے،مٹی کی انسانی مورتیاں، مٹی کی چوڑیاں کنگن اور پالش شدہ مٹی کے برتن ملے ہیں ۔
اس زمانے میں انسان پتھر کے مکان بنا کر رہتے تھے کیونکہ یہاںپتھر کے مکانوں کے آثار بھی موجود ہیں۔ثقافتی طور پر یہ آثار کوٹ ڈی جی ثقافت کے ہمعصر ہیں۔ اس زمانہ کے ظروف چاک پر بنے ہیں۔اور اچھی طرح آگ پر پکائے گئے ہیں ان میں زیادہ تر گول گھڑے ہیں جن کے دہانے باہر کو مڑے ہوئے ہیں اور ان پر ڈھکن رکھنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔
بھوئی گاڑ
یہاں دو جگہوں پر قدیم آثار پائے جاتے ہیں۔۱۔قصبہ کے مغرب میں دریائے ہرو کے کنارے ایک چھوٹی سی پہاڑی پر متاخر حجری عہد اور ابتدائی ہڑپائی عہد اور کوٹ ڈی جی عہد کے آثار قدیمہ واقع ہیں اس جگہ کو پنڈ کہتے ہیں۔یہاں سے ملنے والی ٹھیکریوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے آباد کار ابتداء میں برتن چٹائیوں پر بناتے تھے اور ان پر ہی برتن خشک کر کے بعد میں پکاتے تھے۔بعد میں جب چاک کا رواج ہوا تو یہاں کے باسیوں نے چاک پر برتن بنانے شروع کر دیے۔یہاں سے ملنے والی ٹھیکریاں سرخ اور خاکستری رنگ کی ہیں آثار قدیمہ کے ماہر محمد ادریس صدیقی کے بقول خاکستری رنگ کی مٹی سے بنائے گئے یہ برتن جن پر سیاہ پالش کی گئی ہے اس قسم کے برتن سمیر عراق میں بھی پائے گئے ہیںلیکن ان کا عہد وادی سندھ کی تہذیب کے عہد ۲۳۵۰؁ق م سے ۱۷۰۰؁ ق م سے قبل کا ہے۔پتھروں کے بنے ہوئے مکانوں کے آثار بھی موجود ہیں،یہ شھر کسی ناگہانی آفت میں تباہ ہوا کیونکہ آثار کے قریب جگہ جگہ مٹی میں دفن انسانی ڈھانچے بے ترتیب پڑے ہوئے ملتے ہیں۔۲۔بھوئی گاڑ
عقر پہاڑی پنڈ اور ان کے درمیان ایک وسیع رقبہ پر ایک قایم شہر کے آثار پائے جاتے ہیں۔یہ بھوئی گاڑسے مشرق کی جانب ہیں یہ قبل از مسیح اور بعدازمسیح دور کے ہیں،یہاں گزشتہ سالوں عقر پہاڑی پر نوادرات چوروں نے کھدائی کی تو زمین میں سے سالم دیواریں بنی ہوئی نکلیں،ان کی چنائی میں ان گھڑ پتھر ،گتل اور گارا تھا۔
اس کی اوپر کی تہہ پر خوبصورت گھڑے ہوئے پتھر اور پختہ اینٹ کے ٹوٹے بھی ملتے ہیں۔یہاں سے برتن،مٹ،گھڑے،آبخورے،ڈھکن ،سل بٹے،چکی کے پاٹ،مٹی ہاتھی دانت،عقیق اور لاجورد کے موتی،منکے،مورتیاں اور سکے کثیر تعداد میں ملتے ہیں۔مجھے یہاں سے ایک نازک مٹی کا بنا ہوا چراغ،بچہ گاڑی کا مٹی کا بنا ہوا پہیا،باختری یونانی تانبے کاسکہ،ایک حیوانی مورتی اور شطرنج کا مہرہ ملا تھا۔ان آثار کے پاس ہی قدیم زمانہ کا کنجور پتھر سے پختہ بنا ہوا کنواں آج بھی موجود ہے۔ان کے بہت بڑے حصہ پر آج پھر آبادی ہو چکی ہے
۳۔بھوئی گاڑ۔چھپر ہردو
یہاں مڈل سکول بھوئی گاڑ کے مغرب میں مغلیہ دور کی آبادی کے آثار واقع ہیںیہاں سے برتنوں اور اوزاروں کے علاوہ مغلیہ دور حکومت کے سکے بھی ملتے ہیں،میرے پاس یہاں کے دو سکے ، ایک اکبر اعظم کا تانبے کا سکہ اور دوسرا اورنگزیب عالمگیر کا چاندی کا سکہ موجود ہیں۔یہاں دو مسجدوں کے آثار کے علاوہ ایک پختہ کنواں بھی موجود ہے۔اس جگہ پر اب زمیندار ہل چلاتے ہیں۔ پوڑمیانہ
بھوئی گاڑ کے سامنے مغرب کی طرف دریا ہرو کے دوسرے کنارے پر ناجہ نامی کھنڈرات اور آثار واقع ہیں۔یہاں ایک بدھ خانقاہ اور درمیان میں اسٹوپے کے کھنڈرات موجود ہیں۔اسٹوپہ کو اوپر نیچے سے نوادرات چوروں نے کھود کر تباہ کر دیا ہے۔گزشتہ سال بھی نوادرات چوروںنے اس اسٹوپہ کو نیچے سے سرنگ لگائی تھی۔
جہان آباد
اس کی موجودہ آبادی ایک قدیم تباہ شدہ شہر کے اوپر واقع ہے۔یہاں کی مشرقی جامع مسجد کے نیچے تہہ خانوں کے لیے کھدائی کی گئی تو تہہ در تہہ جلے ہوئے آثار پائے گئے ہیں۔
شائیا
یہاں جی ٹی روڈ ایبٹ آباد کے کنارے ایک ٹیلے پر قدیم آثار واقع ہیں۔
سلطان پور
دریا ہرو کے کنارے دو ٹیلوں پر آثار قدیمہ موجود ہیں ۔یہاں سے قدیم سکے، موتی ،منکے اور برتن ملتے ہیں۔ان آثار کے درمیان ایک قدیم ویران کنواں بھی موجود ہے۔
نورالدین جہانگیر بادشاہ نے اپنی کتاب توزک جہانگیری میں اس قصبہ کا زکر کیا ہے،جب وہ ۱۶۲۰ئ؁ میں کشمیر سیر کے لیے جا رہا تھا۔
خلقداد
گائوں سے جنوب کی طرف ٹیلوں پر قدیم آثار اور قبرستان موجود ہے جبکہ مزید آگے پہاڑ پر قدیم برج اور پلڑے سے بنے ہوئے ہیں۔
خودہیہاں گائوں کے مغرب میں نالہ پار ایک ٹیلہ ہے جس کو مقامی لوگ عیدو کی ڈھیری کہتے ہیں۔یہاں آثار قدیمہ واقع ہیں۔یہاں بھی نوادرات چوروں نے کھدائی کی ہے۔سطح زمین کے اوپر بے شمار ٹھیکریاں پڑی ہوتی ہیں۔
غرشین
یہاں گائوں سے جنوب کی طرف ایک ٹیلے پر زمانہ قدیم کی چند قبریں موجود ہیں۔

حسن ابدال
۱۸۶۴ئ؁ میں ماہر آثار قدیمہ جنرل کننگھم نے حسن ابدال میں تین ٹیلوں پر متعدد آثار دیکھے جنھیں بدھ آثار قرار دیاگ۔جنرل کننگھم کی رپورٹ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے شمارے ۱۸۷۱ئ؁ میں شائع ہوئی۔وہ لکھتا ہے۔اس نشاندھی کی صحت مغل شہنشاہوں کے مشہور و معروف سرو والے باغ کے نذدیک متعدد بدھ آثار کی موجودگی سے ہوتی ہے۔ان میں سے اہم ترین وہ ٹیلہ ہے جس کا شمالی سرا بیس فٹ اور جنوبی پچاس فٹ بلند ہے۔یہ جنوبی سرا باغ کے نذدیک ندی کے دوسری طرف ہے۔اس ٹیلے پر میں نے دو سو فٹ مربع خانقاہ اور ایک بہت بڑے سٹوپہ کے کھنڈردریافت کیے۔ان دنوں کو مغل شہنشاہوں کی عمارتیں بنانے کے لیے گرا دیا تھا۔سٹوپہ کے کھنڈروں میں میرے ملازموں کو تانبے کا ایک برتن اور خانقاہ کی چار دیواری میں یونانی باختری سکے کا نصف حصہ ملا تھا۔ان کھنڈروں سے آٹھ سو فٹ کے فاصلے پر مشرق میں ایک اور بلند ٹیلہ ہے جس پر میں نے ایک مربع عمارت کے آثار پائے جو شاید کوئی مندرتھا۔ثانی الذکر کے جنوب میں اور باغ کے مشرق میں ایک اورٹیلہ ہے جو زیادہ لمبا چوڑا نہیں اسے میںکسی مندر کی باقیات میں شما ر کرتا ہوں۔ان تمام ٹیلوں پر تراشیدہ پتھر اور ٹھیکریاں بکثرت ملتی ہیں۔۱۹۸۶ئ؁ میں محکم آثار قدیمہ نے یہاں کی خانقاہ کے کچھ حصہ کی کھدائی کروائی تو تراشیدہ اور مصفا چنائی کی موٹی دیواریں خانقاہ کے کمروں کی ملی ہیں ان کے اندر گارا استعمال ہوا ہے۔ان دیواروں پر جو پلستر ہے وہ بھی گارے کا ہی ہے۔یہ طرز تعمیر کی مناسبت سے ۱۰۰؁ق م سے ۶۰ء ؁ کی درمیانی دور کی ہیں۔یہ خانقاہ جل کر تباہ ہوئی۔اب ان آثار قدیمہ پر محکمہ آثار قدیمہ کی بے حسی کی وجہ سے لوگ مکان تعمیر کر رہے ہیں۔ورنہ اگر ان کی مکمل کھدائی کروائی جاتی تہ یہ بہت اچھی حالت میں تھے۔
قندھاری پور
قندھاری پور کی پہاڑی اور اس کے دامن میںنالہ جھبلاٹ کے کنارے قدیم زمانے کے ایکبہت بڑے شھر کے آثار واقع ہیں۔پروفیسر منظورالحق صدیقی اس شہر کا نام جھبلاٹ لکھتے ہیں۔یہاں پہاڑی پر تین قدیم زمانہ کی رہائشی غاریں موجود ہیں جبکہ دامن میں متعدد مکانوں کی بنیادوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔نالہ کا لایا ایک ٹیلہ پر ان گھڑ پتھروں کی ایکمری تڑی دیوار کا کوئی دو سو گز لمبا ٹکڑا موجود ہے۔اس کے علاوہ اس ٹیلے پر ہر جگہ کثیر تعداد میںتراشیدہ پتھر پڑے ہوئے ہیں۔قدیم زمانہ کی سلوں،بٹوں اور چکی کے پا۔ٹوں کے ٹکڑے بھی موجود ہیں۔ان کے علاوہ موتی،منکے اور سکے ملتے رہتے ہیں۔یہاں بے شمار ٹھیکریاں پڑی ہوئی ہیں جن میں سے اکثر میں ابرق جھلک نہیں مارتی۔
کوہلیہ
گائوں کی آبادی اور دریا ہرو کے درمیان ایک وسیع ہ عریض ٹیلہ ہے جس کے بعض حصوں پر اب کھیتی باڑی ہوتی ہے۔یہ ٹیلہ ایک قدیم شہر برباد ہونے سے بنا۔ اس پر اب بھی بے شمار ٹھیکریاں پائی جاتی ہیں۔اس ٹیلے سے ایک ایک مربع فٹ کی پختہ اینٹیں بے شمار تعداد میں نکالی جا چکی ہیں جن سے کوہلیہ گائوں کے تقریباً پچاس مکانوں کے فرش بن چکے ہیں۔یہ اینٹیں موریہ عہد (۳۱۷ ؁ق م سے ۱۸۹ ؁ ق م) کی ہیں۔مقامی روایت ہے کہ یہاں سے قدیم سکے بھی ملتے ہیں اور ایک دھاتی بت بھی ملا تھا جسے باہر لے جا کر فروخت کیا گیا تھا۔

قبلہ بانڈی ڈیم
ڈیم سے تھوڑے فاصلے پر مشرق کی طرف ایک ڈھیری نما جگہ ہے جس کو مقامی لوگ گڑھی یا جھنگی کہتے ہیں۔اس جگہ کی حدود تقریباً ۹ کنال دائرہ کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے۔احاطہ کے اندر خودرو گھاس اگی ہوئی ہے۔ اس کے اندر سٹوپہ تھا۔احاطہ کے اردگرد پتھروں سے دیوار چنی گئی ہے جس کی درزوں میں مٹی کی بجائے چھوٹے چھوٹے پتھر چنے گئے ہیں۔اس کے اطراف میں پرانے زمانہ کے برتنوں کے ٹکڑے بکثرت ملتے ہیں۔یہاں سے مورخ وادی چھچھ سکندر خان ویسہ کو مٹی کا بنا ایک چھوٹا سا شیر کا سر بھی ملا تھا۔ڈاکٹر محمد ولی اللہ خان مرحوم کے بقول ملک مالہ کا اسٹوپہ پانچویں صدی عیسوی کا ہے اور پختہ اینٹ سے بنا ہوا ہے۔گندھارا کے فن تعمیر کی اکائی اینٹ کے بجائے بے حیثیت کلی پتھر ہے۔اس تمام وسیع اور بنیادی طور پر پہاڑی علاقے میں صرف ایک ہی ایسا سٹوپہ ہے جو پختہ اینٹ میں بنا ہوا ملا ہے اور جو حضرو ضلع اٹک سے تقریباً چار میل مشرق میں ایک مقام جس کو ملک مالا کہتے ہیں واقع ہے۔یہ سٹوپہ ٹوپ کی شکل میں ہے مگر ویران ہے۔اس کی تعمیر میں پختہ اینٹ استعمال کی گئی ہے وہ تقریباً ڈھائی انچ موٹی ہے اس علاقے میں اینٹ کے استعمال کا خیال غالباً سندھ سے آیا ہو گا۔جہاں موہنجوڈرو میں بدھ اسٹوپہ دوسری یا تیسری صدی عیسوی،ٹانڈو محمد خان کا اسٹوپہ چوتھی صدی عیسوی اور میر پور خاص کا بدھ اسٹوپہ چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی سب کے سب اینٹ میں ہی بنے ہوئے ہیں تاہم ان اسٹوپوں میں جو اینٹ استعمال کی گئی ہے اس کی موٹائی دو انچ اور ڈیڑھ انچ ہے اور ان کا سائز اور ساخت ملک مالہ والے اسٹوپہ سے مختلف ہے۔جبکہ ملک مالہ والے اسٹوپہ کی اینٹ ڈھائی انچ موٹی ہے۔
اس اسٹوپہ پر تحقیقی کھدائی نہیں ہوئی ہے۔
فتح اللہ
اس گائوں کے شمال میں جرنیلی سڑک اور ریلوے لائن کے پار ایک بہت بڑے ٹیلے پر قدیم آثار پائے جاتے ہیں جن میں بے شمار برتنوں کے ٹکڑوں کے علاوہ پختہ اینٹ کے ٹکڑے بھی پڑے ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ایک قدیم زمانہ کا قبرستان واقع ہے۔ان آثار سے کچھ فاصلے پر نیچے دریا ہرو بہتا ہے۔

ہٹیاں
یہاں شیر شاہ سوری کے دور (۱۵۴۰ئ؁ تا ۱۵۴۵ئ؁)کی ایک بائولی اور مغلیہ دور کی سڑک کنارے سرائے موجود ہیں جو پتھروں سے بنے ہوئے ہیں۔

جتیال اس گائوں کے جنوب میں قبرستان کے پاس دو پرانی آبادیوں کے آثار ہیں۔جہاں سے مٹی کے بنے ہوئے برتن ملتے ہیں۔

قطب بانڈی
اس گائوں کے قریب ہی ایک قدیم بدھ اسٹوپہ کے کھنڈرات موجود ہیں۔اس جگہ کو خزانہ کہتے ہیں۔

مومن پور
اس قصبہ کے قریب ایک اسلامی عہد کے قصبہ ’الو‘ نام کے آثار ہیں جنکے درمیان مسجد اور ساتھ ہی قبرستان بھی موجود ہیں۔ انجرسر
اس گائوں کے ساتھ پہاڑی پر ایک قدرتی پانی کا چشمہ ہے اس کے قریب ہی بدھ دور کے آثار قدیمہ موجود ہیں۔جہاں نوادرات چوروں نے کھدائی کر کے بہت سے نوادرات چوری کر لیے ہیں۔
سرکہاس گائوں سے شمال میں ایک قدیم ڈھیری پر آثار قدیمہ ہیں جہاں اب قبرستان بنا دیا گیا ہے یہاں سے کسی شخص کو پرانے زمانے کا دھات کا بنا ہوا مجسمہ ملا تھا۔ان کے ساتھ ہی پرانے زمانے کا کنواں بھی موجود ہے۔
ٹھیکریاں یہ گائوں پرانے تباہ شدہ آثار کے اوپر واقع ہے یہاں تہہ در تہہ جلے ہوئے پرانے آثار ہیں یہاں سے برتنوں کے ٹکڑے لاتعداد حساب میںملتے ہیں اسی وجہ سے اس گائوں کا نام ٹھیکریاں ہے۔
ہارون
یہاں دریا سند ھ کے کنارے آثار قدیمہ ہیں چونکہ ان آثار قدیمہ کے بالکل سامنے مشہور تاریخی شہر ’اونڈ یا ہنڈ ‘ واقع ہے۔اس لیے بعض مورخین کے بقول یہ جگہ بھی زمانہ قدیم میں ہنڈ شہر کا ہی ایک حصہ تھا۔

غورغشتی۔۔
اس گائوں کے قریب ایک بہت بڑے رقبہ پر زمانہ قدیم کے آثارتھے یہاں سے برتن،سکے،موتی،منکے اور پرانے بت بھی ملتے تھے۔اس لیے اس جگہ کو ’مورتی میرا‘ کہتےتھے۔یہاں بدھ دور کے آثار قدیمہ تھے کیونکہ یہاں سے مہاتما بدھ کے بت اور مورتیاں بھی ملی ہیں۔اب ان آثار قدیمہ کا مالکان زمین نے ٹریکٹروں اور بلڈوزرز سے حلیہ بگاڑ دیا ہے۔اور وہاں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔
ویسہ
اس گائوں کے شمال میں ایک ڈھیری پر پرانے زمانے کی آبادی کے آثار واقع ہیں ان آثار میں سے مٹی کے برتن اور سنگ مرمر کے ٹکڑے اور دیگر چیزیں بھی ملتے ہیں بعض جگہ سے بڑے بڑے گول پتھر نکلتے ہیں۔
شادی خان
گائوں سے باہر دریا کے کنارے قدیم آثار موجود ہیں۔
نرٹوپہ
اس گائوں میں مختلف جگہ پرانے زمانے کے آثار قدیمہ موجود ہیں یہاں سڑک پار شمال مغرب میں ایک بہت بڑیآبادی کے آثار واقع ہیں جس پر اب قبریں ہیں۔یہاں ساتھ ہی زمانہ قدیم کا ایک پختہ کنواں بھی موجود ہے اس ڈھیری سے کسی نوادرات چور نے بت بھی نکالے ہیں۔
کالو کوٹھا
اس سے باہر دریا کے کنارے قدیم آثار موجود ہیں۔۔

شاہ ڈھیر
گائوں سے شمال میں ایک ڈھیری پر پرانے زمانے کے آثار ہیں جہاں سے مٹی کے برتن اور پرانے سکے بھی ملتے ہیں
کامل پور عالم
یہاں بھی گائوں میں آثار قدیمہ موجود ہیں جب پر قبرستان بنا دیا گیا ہے یہاں بھی پرانے ٹھیکرے پڑے ہیں۔
دریا
یہاں بھی آثار قدیمہ موجود ہیں جن کے اوپر نیا گائوں آباد ہے۔
عبدالرحمن
اس گائوں کے شمال کی طرف ایک ڈھیری ہے جس کو عبدالرحمن ڈھیری مقامی لوگ کہتے ہیں اس جگہ قدیم زمانہ میں عبدالرحمن گائوں آباد تھا۔لوگ اس ڈھیری کو کھود کھود کر ملبہ مٹی پتھر وغیرہ لے جا رہے ہیںاردگرد ککے مالکان زمین نے بھی تجاوز کر کے ڈھیری کے اکثر حصوں کو اپنی زمینوں میں شامل کر لیا ہے اس جگہ سے مٹی کے برتن اور پرانے زمانے کے سکے ملتے ہیں یہاں قریب ہی دریائے سندھ بہتا ہے۔یہاں جو آثار ہیں وہ ابتدائی اسلامی دور کے ہیں۔
دامان
اس گائوں سے جنوب میں کچھ فاصلے پر ایک ٹیلے پر پرانے آثار ہیں جہاں سے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے اور موتی وغیرہ ملتے ہیں۔
 
 
Source: http://www.alqlm.org/home/index.php?option=com_content&task=view&id=30&Itemid=1
User commentsQuote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.usRead more...
خلق خدا ہمارے گیت گائے گی
 
قائد عوام نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنے دفاعی بیان میں ایک درخشندہ جملہ ایسا بھی کہا تھا جو نہ صرف تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن گیا بلکہ وقت نے جملے کی صداقت پر سچائی کی مہر کندن کردی۔بھٹو نے فرمایا مجھے ازیت دینے والوں نے پاکستان کی تذلیل کی ہے۔تیس سے پینتیس سال کی خدمات میرے پس منظر میں کھڑی ہیں۔وقت ہی یہ بتائے گا کہ میرا نام برصغیر کے مجرموں کی فہرست میں درج ہوتا ہے یا پھر ان ہیروز کی لسٹ میں جنکی شہرت و مقبولیت کی خوشبو اس روئے ارض کے ہر کونے تک پھیلتی ہے۔بھٹو صاحب دواپریل1979 کو بینظیر بھٹو سے اخری ملاقات میں پیشین گوئی کرتے ہیں کہ خلق خدا میرے گیت گائے گی اور میںاسکی کہانیوں کا جادواں حصہ بن جاونگا۔چار اپریل1979 اور ستائیس دسمبر2007 دو ایسے ہولناک و غم ناک دنوں کا درجہ رکھتے ہیں جنہوں نے اہل پاکستان کو غموں کی سوغات کا تحفہ دیا۔ان دنوں میں پورا پاکستان ماتم کدہ بن گیا۔ قضا نے زندگی کو کچل دیا۔ قائد کی دھرتی شام غریباں کا منظر پیش کررہی تھی۔ سوات کے پہاڑوں سے لیکر کشمیر کے نخلستانوں تک اور ملتان کے ریگزاروں سے لیکر وادی مہران کے کوہستانوں تک اہوں سسکیوں کی برسات نے ماحول کو رنجیدہ و رنجوڑ بنا رکھا تھا۔مسلم دنیا کا ہر غیور باسی ماتم کنائی کررہا تھا کیونکہ پاکستانیوں اور کرہ ارض کے ہر کونے میں بسنے والے مسلمانوں کو وقت کے سامراج نے میر جعفروں و میرصادقوں کی مدد سے دو ایسے رہنماوں سے محروم کردیا جو امہ کی تقدیر بدلنے کے لئے بے خطر اتش نمرود میں کودے تھے۔چار اپریل کو قائد عوام تختہ دار پر لٹکائے گئے جبکہ ستائیس دسمبر 2007 کو مسلم دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم دختر مشرق کو خود کش حملے کی بھینٹ چڑھایا گیا مگر سچ تو یہ ہے کہ دونوں مر کر ہمیشہ کے لئے لوگوں کے دلوں میں امر ہوگئے جمہوریت فتح سے سرفراز ٹھری۔ڈکٹیٹرشپ ذلت و خواری کا جامہ پہن کر غریق شکست ٹھری۔یہ حقیقت اظہر من التمش ہے کہ بھٹو خاندان برصغیر پاک و ہند کا واحد خاندان ہے جس نے چودہ سو سال پہلے سچ کی راہ میں زندگیاں قربان کرنے والے شہدا کربلا کی یاد تازہ کی۔اہل بیت نے اسلام کی کبریائی کے لئے دھرتی کربلا کی پیاسی زمین کو خون مقدس سے سیراب کیا تو بھٹوز نے مقہور و مجبور عوام کی شہنشاہی جمہوریت کی سربلندی کے لئے اپنے سر کٹوائے۔قائد عوام کو خود ساختہ مرد مومن نے وائٹ ہاوس کے اشارے پر عدالتی قتل کے زریعے پیوند خاک کیا گیا جبکہ بے نظیر کو روشن خیالی کے موجد فرعون نے مذہبی درندوں کی سفاکیت کے کلہاڑے سے شہید کروایا۔ دشمنان پاکستان نے بھٹو کے دونوں وارثوں شاہنواز بھٹو و میر مرتضی بھٹو کو بھی بڑی مکاری سے مروایا دیا۔جرنیلوں کی احسان فروشی پر روح کانپ اٹھتی ہے کیونکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد شکست کی تصویر بنکر خمار زدہ سانپوں کی طرح بلوں میں منہ چھپائے ہوئے جرنیلوں کا بھرم قائد عوام نے قائم کیا۔ انہوں نے پاک فوج کے لاغر جسم میں نئی روح پھونکی اور مختصر عرصے میں دفاعی فورسز کو ناقابل تسخیر بنا ڈالا۔اندرا گاندھی نے شملہ مذاکرات کے دوران بھٹو کو مشورہ دیا کہ چند جرنیلوں کو ڈھاکہ بھیج دیں تاکہ ان پر غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں ورنہ یہی جرنیل موقع ملتے ہوئے تمھیں نہیں چھوڑیں گے۔مگر بھٹو نے پاک فوج کی عقیدت و وقار کے لئے اس تجویز کو مسترد کردیا۔بھٹو کو قوم پرستی کی بھیانک سزا بھگنی پڑی۔بھٹو کی پھانسی کے بعد دنیا بھر میں المیہ ادب کی تخلیق ہوئی۔
ایک گوہر نایاب گنوا بیٹھے ہو۔
کس شخص کو سولی پر چڑھا بیٹھے ہو لوگو۔
بھٹو کیس کی حقیقت کا اقرار مرد مومن ڈکٹیٹر کے قریبی پیادے جنرل کے ایم عارف اپنی کتاب میں یوں کرتے ہیں۔سپریم کورٹ نے بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کا فیصلہ شریف الدین پیرزادہ کے زریعے ضیاالحق کو بھجوایا اور وہاں سے منظوری ملنے کے بعد فیصلہ سنایا۔ترکی میں چالیس سال بعد پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کرکے مصلوب وزیر اعظم عدنان میندرس کو تمام الزامات سے بری کردیا اور اسکے جسد خاکی کو گمنام جگہ سے نکال کر ہیروز کے قبرستان میں پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔جنرل ضیا کے پیادوں نے اب برملا تسلیم کرلیا ہے کہ بھٹو کو ناحق تختہ دار پر کھینچا گیا۔عالمی برادری تو پہلے ہی اس کیس کو عدالتی قتل کا لقب دے چکی ہے۔یوں موجودہ قومی اسمبلی کو بھی ایک قرارداد کے زریعے چاروں بھٹوز کو قومی ہیرو کا درجہ دیکر انکی لازوال و باکمال خدمات کے بدلے عظیم والشان یاد گاریں تعمیر کرنی چاہیں تاکہ پاکستان کے ماتھے پر نقش احسان فراموشی کی کالک کو دھویا جاسکے۔بھٹو کی رحلت کے بعد پی پی کے ورکرز مایوس ہوگئے۔پارٹی کی بقا کا مسئلہ درپیش تھا اس نازک گھڑی میں پنکی نام کی نازک لڑکی نے ڈکٹیٹرز کے خلاف صف ارا ہونے کا اعلان کردیا حالانکہ قائد عوام نے اخری ملاقات میں پنکی کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی ملک میں جانے کی اجازت تک دے دی مگر پنکی نے جواب دیا میں کبھی عوام و ورکرز کو بے سائباں چھوڑ کر نہیں جاسکتی پنکی نے عزم وجنون کا نعرہ لگا کر کہا۔۔ہم نہیں جاسکتے ہم کبھی نہیں جائیں گے جرنیلوں کو یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت جائیں۔اگر ہم باہر چلی جائیں تو پھر پی پی کو کون سنبھالے گا اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ پنکی نے بے نظیر کے روپ میں ضیائی فاشزم کا پائے استقلال سے نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ائرن لیڈی نے غدار پارٹی لیڈرز اور جاگیرداروں کی بے وفائیوں کے باوجود پی پی کو ملک کی جوہری جماعت بنا دیا۔بے نظیر بھٹو اکیس جون 1953[L: 8] میں پیدا ہوئیں۔وہ پہلی خاتون تھیں جسے اکسفورڈ ایسی شہرہ عالم یونیورسٹی میں یونین کی صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔زمانہ طاللبعلمی میں برطانیہ کی وزیراعظم مار گریٹ تھیچر نے بینظیر کو ہاوس اف کامن میں چائے کی دعوت دی جو ایک دیوقامت اعزاز تھا۔بی بی کو سیاست دان بننے کا کوئی شوق نہ تھا۔وہ کسی اخبار کی اڈیٹر شپ یا پھر پاکستان کی سفیر بننے کا شوق رکھتی تھیں۔بی بی عظیم و انیق ہستی تھیں۔وہ ملت کے مقدر کا ستارہ اور مقہور طبقوں کے لئے درخشندہ افتاب، دلکش و دل اویز سراپا،جدت و ندرت کا حسین امتزاج انقلاب افریں نظریات اور حریت کیش افکار کی مظہر تھیں۔ بی بی نے پہلی تقریر فیصل اباد میں کی۔وہ عوامی رابطہ کے سلسلے میں وہ ملتان ائیں تو مارشلائی گماشتوں نے ان کے ساتھ غیر اخلاقی و حیوانی سلوک کیا تاکہ اسے خوف و حزن کے چڑیا گھر میں بند کردیا جائے وہ ڈٹ گئی مگرجھکی نہیں۔ضیائی دور کی انتظامیہ پی پی کے وفادار ورکرز کے لئے بھیڑیوں کا روپ دھار گئی ۔کوڑے پھانسیاں تشدد و زندان انکا مقدر بنے۔پی پی کی توڑ پھوڑ کے لئے ضیائی کارپردازان نے ورکروں و لیڈروں پر وحشیانہ مظالم کی جھنکار کی کہ ہلاکو خان کی روح بھی شرمندہ ہوگئی۔بی بی نے جرات و ہمت کی فلک بوس مثالیں قائیم کیں کہ جرنیل ششدر رہ گئے۔بی بی کو پانچ سال تک جیلوں میں ٘قید رکھا گیا۔جنرل ٹکا نے راقم کو بتایا تھا کہ بھٹو خاندان نے مجموعی طور پر پچیس سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔1985 کے الیکشن میں ایم ارڈی نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو اس وقت بی بی لندن میں جلاوطنی کی زندگی کی چکی میں پس رہی تھیں۔بی بی نے اے ارڈی کو مشورہ دیا کہ میدان خالی نہ چھوڑا جائے اور ہر صورت میں الیکشن میں حصہ لیا جائے مگر ایم ارڈی نے میدان خالی چھوڑ دیا جسکا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ غیر سیاسی افراد کو اگے انے کا موقع ملا۔سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کا ناسور شامل ہو گیا۔ممبران اسمبلی للچائی ہوئی نظروں سے امروں کے پاوں چاٹ کر دولت کے اسیر بن گئے۔بی بی کو1985 میں ایک اور صدمہ ڈس گیا۔شاہنواز بھٹو پیرس میں ہلاک ہوگئے۔بھٹوز کے لئے یہ دوسرا صدمہ تھا۔بی بی غم زدہ و بوجھل دل کے ساتھ جان سے پیارے بھائی کی میت لیکر واپس ائیں۔شاہنواز کے جنازے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کرکے ضیائی غبار ے سے نہ صرف ہوا نکال دی بلکہ بھائی کی موت کے غم کو بی بی نے عزم میں بدل ڈالا۔بی بی نے بھائی کی موت پر ایک نظم لکھی جس کے چند اشعار یوں تھے۔

وہ پیار حسین نوجوان
ایک امر سے لڑتا رہا
ؔأخری سانس پیارے وطن سے
بہت دور کھینچی
لاکھوں افراد کی دعاوں کے ساتھ
ہم نے اسے دفنایا اسکے وطن کی منٹی میں
جو تھے زندگی میں بھی اسے چاہتے
موت کے بعد بھی انکی چاہت جواں
مرگئے مگر جدو جہد کو جواں کرگئے۔

بی بی کو ابھی یہ معلوم نہ تھا کہ اسے ایک اور بھائی کی موت کا صدمہ سہنا ہے۔دشمنان بھٹوز نے1996 میں میر مرتضی بھٹو کو اس وقت شہید کردیا۔ظلم تو یہ ہے کہ مرتضی کو ستر کلفٹن کے سامنے اس وقت گولیوں سے بھون دیا گیا جب وہ خود سربرائے سلطنت تھیں۔بی بی دومرتبہ وزیراعظم بنیں مگر خفیہ ہاتھوں و جرنیلوں نے دونوں بار انکی حکومت برطرف کردی۔بی بی کی پجارو گاڑی کی ڈگی پر نازاں سفر کرنے والا فاروق لغاری بی بی و پی پی کی سپورٹ سے ایوان صدر کا بگ باس بن گیا مگر وہی قاتل بھی ٹھرا۔فاروق لغاری نے پی پی کی کمر میں چھرا گھونپا اور1996 میںاپنی حکومت کا گلا گھونٹ دیا۔مشرفی دور میں بی بی طویل عرصہ جلاوطن رہیں۔مشرف نے بھی پی پی کو توڑنے اور بدنام کرنے کے لئے بی بی پر من گھڑت الزامات ہانکے مگر پھر ایسا وقت بھی ایا جب مشرف دوبئی میں بی بی کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھے تھے کہ واپس ائیں۔بی بی کی امد پر بیس لاکھ لوگ کراچی کے ایرپورٹ پر جمع تھے۔خاکی ہل کر رہ گئے۔کراچی میں مشرفیوں نے پی پی کی پوری قیادت کو ہلاک کرنے کے لئے خون کی ہولی کھیلی جس میں سینکڑوں ورکرز ہلاک ہوگئے مگر بی بی کو راہ حق سے ہٹانے کی تمام خونی اور بودی سیاہ کاریاں دم توڑ گئیں۔پی پی کی مقبولیت نے قاتلوں کو لرزادیا۔یوں انہوں نے ستائیس دسمبر 2007کو دیوی جمہوریت کا خون نچوڑ لیا مگر پھر بھی انہیں الیکشن میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔پی پی اج بی بی کی شہادت کے کارن ایوان صدر و وزیراعظم ہاوس میں جلوہ گر ہے۔بی بی کی موت ایک عہد کا خاتمہ تھا۔ دنیا کی کئی تنظیموں نے ایوارڈ دیکر بی بی کی خدمات پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔پی پی کا اولین فرض ہے کہ وہ بھٹوز کے منشور کی روشنی میں ملک و قوم کی خدمت کریں تاکہ انکی ارواح کو سکون نصیب ہو۔باقی پی پی کو ملیا میٹ کرنے کی خواہش رکھنے والے عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے ہیں کیونکہ بھٹوز کا نام ہمیشہ پاکستانیوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا رہے گا۔قائد عوام نے درست ہی کہا تھا کہ خلق خدا میرے گیت گائے گی۔

User commentsQuote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.usRead more...
سچ کڑو ا سہی لیکن !ایک نظر ادھر بھی اے چارہ گرو
 
سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن کا قول ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیئے ساری دنیا کو بے وقوف بنا سکتے ہیں تھوڑی اور دیر کے لیئے آدھی دنیا کو اور تھوڑی اور دیر کے لیئے چوتھائی دنیا کو اس سے کچھ زیادہ دیر کے لیئے ایک محدود تعداد کے لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیئے آپ کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتے ۔جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے ممبئی سمیت بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات کے اصل مجرم سامنے آنے لگے ہیں مالیگاؤں کے واقعہ میں ملوث گرفتار ہونے والے کرنل پروہت کے انکشافات کے بعد کرکرے سمیت ان تفتیشی افسران کا قتل اب بھارت کے گلے کی ہڈی بنتا جارہا ہے ۔ جو کاما ہسپتال کی گلی میں مارے گئی۔ غیر جانبدار حلقوں سمیت قتل ہونے والے افسران کے ورثا کی طرف سے ان کے قتل کو سازش قرار دے کر اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیئے غر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ تا جارہا ہے بھارتی لوک سبھا کے وزیر برائے اقلیتی امور عبد الر حمٰن انتولے کے خطاب نے بھارتی نیتاؤں کی نیندیں حرام کر دی ہیں ۔کیو نکہ ان کے سیکولرہونے کے دعوے کو سخت دھچکا لگا ہے جوں جوں سیکولر ماسک اتررہا ہے ہندو انتہا پسند وں کا چہرہ صاف دکھائی دینے لگا ہے اور عالمی میڈیا کی نظروں کا دھندلکا بھی چھٹنے لگا ہے ۔ انتولے کا کہنا تھا کہ ہمت کرکرے کا قتل ایک سازش کے تحت ہندو انتہا پسندوں نے بھارتی ایجنسیوں کی ملی بھگت سے کیا ہے کیونکہ وہ مالیگاؤں دھماکے کی تفتیش کر رہے تھے اور انھوں نے اپنی تحقیقات میں یہ ثابت کیا کہ دھماکے مسلمانوں نے نہیں بلکہ ہندو انتہاپسند وں اور غیر مسلموں نے کیئے ہیں انتولے نے کہا کہ انھیں اس بات پر بھی حیرت تھی کہ کرکرے جیسا افسر تاج محل اور ابرائے ہوٹل یا ناریمان ہاوس جانے کے بجائے کام ہسپتال کی گلی میں کیوں گیا ؟یعنی یہ تینوں اعلیٰ افسران اس گلی میں کیوں گئے جب کہ یہ پروٹوکول کے خلاف تھا اسی طرح کی اور بہت سی باتیں شکوک شبہات پیدا کرتی ہیں جن کی تحقیقات ہونی چائیے ۔ہمیت کرکرے کی موت پر ان کے سوالات نے ہندو انتہا پسندوں کے ہوش گم کر دئیے ہیں اور وہ اس غصہ میں جہاں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر آگئے ہیں اور انھوں نے انتولے کو پاکستانی ایجنٹ کہ کر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا ہے ۔لیکن حکومت کی خاموشی نے اس واقع کو اور پرا سرار بنا دیا ۔اور حکومت کو اس مشکل سے نکالنے کے لئیے انتولے نے خود ہی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو اپنا استعفیٰ ارسال کرکے ایک اور اخلاقی فتح حاصل کر لی ہے اور کہا ہے کہ اگر حکومت کی اس کے بیان پر سبکی ہوئی ہے تو وہ خود ہی اس عہدے سے استعفیٰ دے دیتے ہیں کیونکہ وہ حکومت کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے لیکن حکومت کو کرکرے کی موت کے پیچھے سازش کو بے نقاب کرنے کے لئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانا ہوگی تاکہ بھارت کا سیکولر اسٹیٹ ہونے کی ساکھ متاثر نہ ہو ۔ ادھر کرکرے کی بیوہ نے بعد از موت حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے بہادری کے ایوارڈ کو بھی وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔جس کا موقف ہے کہ اس کے خاوند کو ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے ۔کرکرے کا جرم یہ ہے کہ اس ایمان دار آفیسر نے اپنی مٹی سے وفا کرتے ہوئے بھارت میں اصل وارداتیں کرنے والے گروپ کو بے نقاب کرتے ہوئے نہ صرف بھارتی ایجنسیوں سے دشمنی مول لے لی بلکہ اس نے ایک فوجی کرنل پروہت جو ان وارداتوں کا سرغنہ تھا نہ صرف گرفتار کیا بلکہ اس نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ مالیگاؤں ،سمجھوتہ ایکسپریس سمیت متعدد دہشگردی کی وارداتیں اس کی زیرنگرانی ہندو انتہا پسند تنظیموں کی کارستانی ہے تاکہ مسلمانوں کو مشکوک کرکے ہند وستان میں ان کا جینا مشکل بنا دیا جائے ۔کرکرے کے سنیے میں موجودبہت سے راز اور اہم شخصیات کا ان کاروایوں میں ملوث ہونے کے ثبوت اس کی موت کے ساتھ ہی اس کے ساتھ دفن ہوگئے لیکن کہتے ہیں کہ بے گنا ہ کا خون خود بولتا ہے وہ کبھی رائیگاں نہیںجاتا ۔سچ کڑوا صحیح مگر تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے آل انڈیا پیٹراٹک فورم سے وابستہ نامور صحا فی امریش مشرا نے ڈھنکے کی چوٹ پر بولا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور ایجنسیوں کی کہانی حقیقت سے میل نہیں کھاتی اور اب عوام اچھی طرح محسوس کرنے لگی ہے کہ ان سے کچھ چھپایا جارہا ہے ۔یہ حملہ بھارتی دستور کو بدلنے کے لیئے کیا گیا ۔جس کو سیکولر لوگ برداشت نہیں کریں گے انھوں نے کہا یہ حملہ ایک عالمی گیم ہے جس کے پیچھے موساد ،سی آئی اے اورآر ایس ایس کے لوگ ہیں ۔ان کو سادھو سنگھ پر گیا ٹھاکر کے معاملے کو دبانا تھا۔ کیونکہ حالیہ تفتیش میں پورا بھگوا برگیڈ ننگا ہورہا تھا۔کرکرے کو اسی لیئے راستے سے ہٹایا گیا جب کہ مزیدچھ ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخا بات میں کامیابی بھی ان مقاصد میں شامل ہے ۔ان کے مطابق اس پورے معاملے میں دوتین چیزوں پر غور کرنا چائیے یعنی ہمیت کرکرے اور دیگر دو افسران کی موت کہاں اور کیسے ہوئی؟ ان تینوں لوگوں کے موبائل کہاں ہیں ؟کرکرے کے موبائل پر سب سے آخر میں کس نے اور کہاں سے فون کیا ؟اور اس نے ان کو کیا پیغام دیا؟آخر وہ تینوں لوگ ایک ساتھ کیوں تھے ؟ہمیت کرکرے اور ان کے ساتھیوں کو جو گولی لگی وہak47کی گولی تھی یا9MM[L: 91]7.l[L: 93]کی؟دوسرا نریمن ہاوس میں پچھلے دو مہینے سے کیا سرگرمیاں چل رہی تھیں ؟اس میں کون لوگ آئے گئے ؟اور نریمن ہاوس کا آپریشن سب سے آخر میں کیوں کیا گیا ؟امریش مشرا نے بڑے دکھ سے کہا موساد اور سی آئی اے ہندوستان کو توڑنا چاہتے ہیں ۔ان کا مقصد پوری دنیا کو اقتصادی ،تہذیبی،فکری اور سیاسی طور پر غلام بنانا اور دنیا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر لسانی ملک کو ٹکڑوں میں بانٹے بغیر وہ اپنے اس ناپاک ارادہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔جب کہ آر ایس ایس کی لڑائی ہندوستان کے دستور سے ہے ۔وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا ۔اس کا خواب ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا ہے لیکن اس کام کے لیئے وہ اپنے آپ کو تنہا پاتا ہے ۔اس لیئے اس نے موساد اور سی آئی اے سے الحاق کیا ہے ۔گاندھی جی کا قتل اسی ذہنیت کا غماز تھا ۔1991سے قبل کیونکہ وہ روس کے دبدبے کی وجہ سے آزاد نہیں تھے ۔اور اب موساد انھیں اپنا پٹھو بنا نا چا ہ رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں 1993کے بعد ہونے والے سارے بم دھماکے اور حملوں کے پیچھے یہی الحاق کام کر رہا ہے موساد کاایک گروپ جس کو sayanimکہا جاتا ہے یہ اسرائیل سے باہر کام کرتا ہے اس بات کی تحقیق ہونی چائیے کہ کہیں ان دس دہشت گردوں کا تعلق اسی گروپ سے تو نہیں ۔پھر نریمن ہاوس میں جو یہودی مارے گئے ہیں ان کو کس کی گولی لگی؟ابھی اس طرح کی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ امریکہ یا ہندوستان میں 9/11جیسا کوئی بڑا حملہ ہوسکتا ہے دراصل دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہی ہے ۔اس ممکنہ جنگ میں یہ لوگ مسلمانوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔صاحبو اس کڑوے سچ نے بھارت کے نیتاؤں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں اور وہ پاکستان پر دباؤ بڑاھا کر ابھی کمزوری کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے ۔بھارت کے اندر اس وقت علیحدگی کی 67تحریکیں چل رہی ہیں ان کے علاوہ دہشت گردو ںکا بھی راج ہے 17بڑی اور 50چھوٹی ان علیحدگی پسند تحریکوں نے اپنے کارکنوں کی تربیت کے لیئے عسکری کیمپ قائم کر رکھے ہیں ۔بھارت کی میڈیا رپورٹس کے مطابق 162اضلاع میں ان انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے ۔دوسری جانب وہ اپنے کارتوتوں کی سزا ہمسائیہ ممالک کو دینا چاہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اس وقت پاکستان ،چین ،سری لنکا ،اور نیپال میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیموں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے ۔
User commentsQuote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.usRead more...
عربوں پر برتری کی علامت اور لومڑی
 
سعودی عرب کو دنیا بھر میں عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔مسلمانوں کے لئے سعودیہ مقدس ترین جگہ ہے۔اللہ کے گھر خانہ کعبہ مسجد نبوی اقائے دوجہاں حضرت محمد صلعم و دیگر انبیاوں کی جائے پیدائش اور روح پرور مزارات و گنبد خضری کی عقیدت مسلمانوں کے رگ و پے میں خون بن کر دوڑتی ہے یوں سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے بادشاہوں کے ساتھ دنیا کے ڈیڈھ ارب مسلمان والہانہ پیار و یگانگت رکھتے ہیں۔سعودی فرمانروا شاہ عبدللہ کی کوشش و خواہش پر حال ہی میں نیویارک میں بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی تاکہ دنیا کے مختلف مذاہب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج و نفرت کو کم کیا جائے مگر اس کانفرنس میں سب سے زیادہ تنقید و تشنع کے تازیانے بھی سعودی عرب پر برسائے گئے۔ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم نے کانفرنس میں شامل شاہ عبدللہ پر تہمتوں کی بوچھاڑ کردی۔تنظیم کے الزامات میں کتنی صداقت ہے اسکا علم تو خدا جانتا ہے،مسلمانوں کے دلوں میں سعودی عرب و بادشاہوں سے روحانی الفت کے سمندر ٹھاٹھیں ماررہے ہیں۔مسلمانوں کی خطہ عرب سے والہانہ عقیدت کسی بھی قسم کے شک و شکوک سے بالاتر ہے مگر کسی بھی ادارے کی تنقید برائے اصلاح کے مختلف ہائے نقطہ نظر کو پرکھنا بھی قلم کی ناگزیرحرمت کا تقاضا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے سعودی عرب پر مذہبی امتیاز رکھنے اور متعصب ملک کا دشنام لگایا۔تنظیم کے بازیگروں نے دنیا سے اپیل کی کہ وہ شاہ عبداللہ پر دباو ڈالیں کہ وہ سعودی عرب سے عصبیت اور دینی تفاوت کو ختم کریں اور جس قسم کے نظریات کی علمبرداری انہوں نے کانفرنس میں کی اور جس قسم کی نصیحتیں وہ مغرب میں کرتے ہیں تو دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ ایسے نظریات کی پرورش اپنے ملک میں بھی کرتے ہیں جن مشوروں کا اظہار وہ مغرب میں اکر کرتے ہیں کیا وہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔کنفیوشش نے کہا تھا دیدہ وہ ہے جو اپنی گریبان میں جھانکے۔ہیومن رائٹس واچ کی ڈرائکٹر برائے مشرق وسطی سارہ ویٹسن نے کہا سعودی عرب میں مسلمانوں کے ایک مخصوص مسلک کے علاوہ دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو کسی قسم کی کوئی اذادی نہیںور ایک کے علاوہ مسلمانوں کے دیگر مسالک کے پیروکاروں کو کچھ بولنے کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔سعودی شہنشاہوں کے پسندیدہ مسلک سے تعلق رکھنے والے علما و فضلا کو ہر قسم کی چھوٹ ہے کہ وہ مخالف نظریات و مسالک کی جس طرح چاہیں دل ازاری فرمائیں انکی تکفیر کریں اور دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والی برگذیدہ و مقتدرہ ہستیوں پر اہانت و تحقیر کے نشتر برسائیں۔سارہ کا کہنا تھا کہ کانفرنسوں میں ان مقامات و مملک پر بھی بحث و مکالے منعقد کئے جائیں جہاں دیگر ادیان تو کجا خود اہل توحید کے دیگر مسالک کو نفرت کی شکل میں دیکھا جاتا ہے اور ایسے مقامات میں خود سعودی عرب سرفہرست ہے۔سعودی عرب پر ایسی افترپردازی ماضی میں بھی عائد کی جاتی رہی ہے مگر نو دوگیارہ کے بعد اس میں تیزی اگئی۔بعض دل جلوں نے تو حادثے کی زمہ داری سعودی عرب کے سر تھوپنے کی کوشش کی تھی کیونکہ امریکی بیان کے مطابق تمام ہائی جیکروں کا تعلق سعودی عرب سے تھا جنکی مالی سرپرستی سعودی شہری کرتے تھے۔ان الزامات و تہمتوں کو دھونے کے لئے سعودی عرب نے نہ صرف زبانی طور پر جواب دینے کی کوشش کی بلکہ انہوں نے اسکا عملی اظہار بھی کیا جس کا ثبوت اناپولس کانفرنس کی صورت میں سامنے ایا جہاں سعودی بادشاہ نے اسرائیل کے ساتھ بیٹھ کر مذہبی رواداری کو اجاگر کرنے کی کوشش کی علاوہ ازیں سعودی بادشاہوں و شاہی نمائندگان نے میڈرڈ کانفرنس میں بھی شرکت کرکے دیگر مذاہب کے ساتھ رواداری کا ڈنکا بجایا۔میڈرڈ کانفرنس اگست میں منعقد ہوئی جسکا نام بین المذہبی کانفرنس رکھا گیا تھا۔اسی کانفرنس میں شاہ عبداللہ نے اشاروں کنایوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اقرار ا کیا تھا۔چہار شنبہ کو منعقد ہونے والی بین المذاہب کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ شاہ عبداللہ بن عبدلعزیز ال سعود و یہودی صدر شمعون پیریز ساتھ ساتھ تشریف فرما تھے۔شمعون نے ایک ہفتہ قبل شاہ عبداللہ کی امن کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ مغربی زرائع ابلاغ سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق شمعون پیریز کا شمار عرب مخالف انتہاپسند رہنماوں میں ہوتا ہے اور مغرب میں شمعون کو عربوں پر( برتری کی علامت )کا لقب دیا جاتا ہے وہ اسرائیل کی کوئی مذہبی شخصیت نہیں بلکہ وہ تو وہاں کے سیاسی گرگے ہیں جو گریٹر اسرائیل کے سب سے بڑے و پرجوش مبلغ ہیں۔شمعون کا شمار اسرائیل کے بانیوں میں کیا جاتا ہے اور شمعون ہی یہودی ایٹمی طاقت کے معمار ہیں۔وہ لومڑی کے نام سے شہرت رکھتے ہیں کیونکہ انکی حیلہ گری اور داو پیچ سے کوئی نہیں بچ پاتا۔شمعون نے عالمی شدت پسند عالمی صہیونی ساہوکاروں سے ملکر اسرائیل کو نہ صرف دفاعی و ایٹمی میدان میں مضبوط تر بنایا بلکہ وہ اسرائیل کو مڈل ایسٹ کا جابر نمبردار بنانے و بے کس و بے بس فلسطینیوں کے خون ناحق کی ہولیاں بہادینے والے سفاک ترین یہودیوں کی صف اول کے امام ہیں۔تجزیہ نگاروں کی ارا کے مطابق میڈرڈ کانفرنس کو مذہبی لباس پہنانے کا مقصد ہی دنیا کو یہ باور کرانا مقصود تھا کہ دونوں (عرب و یہود ) کے درمیان نفرت کی حائل خلیج کو کم کیا جارہا ہے اور ازلی دشمنوں کے مابین دوستی کے نئی رشتے دوبارہ استوار کئے جارہے ہیں۔اس کانفرنس کی انفرادیت کا اندازہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ کانفرنس میں سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ کی بنفس نفیس شرکت پر خاصی تنقید کی گئی۔عرب اسرائیل تنازعات سے گہرا تعلق رکھنے والی عربی شخصیات نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ سعودی لیڈرز فلسطینی کاز کو روند کر مغرب و امریکہ کی خوشنودی کے لئے اسرائیل سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔عرب حکمرانوں نے ابھی تک فلسطینی عوام کی ازاد ریاست کے قیام کے لئے سنجیدہ مساعی جلیلہ انجام نہیں دی مگر ایسی کانفرنسوں کے انعقاد سے یہ سچائی ضرور برامد ہورہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور کروانے کا سوانگ رچایا جارہا ہے مگر ایسی دریدہ دہنیوں جسکی رو سے فلسطینی مطالبات کو تسلیم کروانے سے قبل تل ایب کو تسلیم کرنے یا دوستانہ روابط قائم کرنے سے یہودیوں کی مرعوبیت کی مالا چنی جارہی ہے۔دوستانہ تعلقات اسرائیل کے لئے ہدیہ ہیں اور ایسی عنایات تل ایب کو مذید ہلہ شیری بخشیں گی کہ وہ مڈل ایسٹ میں حاکمانہ دندناہٹ کو بڑھادے۔فلسطین سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کی رائے زنی کے مطابق ایسی کانفرنسوں و سیمیناروں میں یہودی ارباب اختیار کے ساتھ مذہبی مذاکرات کرنے سے ہم اس نقطے کو تسلیم کرلیں گے کہ اسرائیل یہودی مملکت ہے یوں تل ایب کے پاس یہ جواز پیدا ہوگا کہ وہ بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہاتا رہے وہ فلسطینی روایات زمین و مقامات مقدسہ کو یہودی رنگ میںرنگتا رہے۔بیت المقدس کو تخت و تاراج کرکے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا اغاز کردے تاریخ کی چوری کرتا رہے اور وہ یہتوقع کرے گا کہ عربوں کی سرزمین و دارلسلام کے ڈھیر پر قائم اسرائیل کے وجود کو سب تسلیم کرلیں۔مصری تجزیہ نگار عبدالنعم ابوالقتوح نے اپنے تجزیہ میں حقائق کو یوں طشت ازبام کیا ہے مذاہب کے نام پر سجائی جانیوالی کانفرنسوں میں صرف سیاسی شخصیات شرکت کرتی ہیں۔یواین او کی جنرل اسمبلی میں جو بین المذاہب سرکس سجائی گئی وہ سیاسی شو تھا اور اس شو میں کسی مذہبی شخصیت کو مدعو نہیں کیا گیا جو مختلف ادیان کی روشنی میں رواداری و مساوات کے پھریرے لہراتا۔نیویارک کی تیسری کانفرنس سے پہلے مکہ و میڈرڈ میں دوعدد کانفرنس شو منعقد ہوچکے ہیں۔سعودی عرب ایسی کانفرنسوں کے انعقاد سے اپنے اوپر عائد کئے جانیوالے ان الزامات کا داغ دھونے میں غلطاں ہے جو مغرب کی طرف سے دہشت گردی کو فروغ دینے کی سیاہی سے سعودی عرب کے دامن کو داغدار کئے ہوئے ہے۔سعودی عرب چاہتا ہے کہ امریکہ کی مشنری تنظیموں و مغربی زرائع ابلاغ کے توسط سے سعودی عرب کی مسخ شدہ تصویر کو روشن خیال رنگ و روپ سے دوبارہ تخلیق اور درست کیا جا سکے۔سعودی عرب مسلم شدت پسندی سے تہی داماں ہوجانے[L: 44] اپنے اپکو ازاد ملک ثابت کرنے کے لئے بے پناہ کاوشیں کررہا ہے تاکہ مغرب سعودیہ کو دہشت گردی کے مقدمات و الزامات سے بری کردے۔ریاض کی ساری ریاضت اس ایک نقطے میں مرکوز ہے کہ ہمارا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ سعودی عرب تو خود مسلم انتہاپسندوں کی ظلمت کا نشانہ بنا ہوا ہے۔یوں نیویارک کی کانفرنس کا خلاصہ یہ ہے سعودی عرب مغرب کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ رواداری میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔سعودی عرب کی ایسی کوششیں کامیابی سے ہم اہنگ ہوتی ہیں یا نہیں اسکا فیصلہ تو انے والا وقت کریگا۔سعودی عرب پر کانفرنسوں کے انعقاد کی صورت میں الزامات کی بوچھاڑ میں حقیقت کا رنگ کونسا ہے اسکا علم بھی کانفرنس کے منتظمین کو ہے مگر ایک سچ تو یہ ہے کہ سعودی عرب چاہے ہزاروں کانفرنسیں منعقد کرواتا پھرے یا مغرب میں اپنی بے گناہی کے جتنے شواہد دکھاتا رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہود و ہنود کی نس نس میں اسلامی تعلیمات سے حسد و بغض کا زہر بھرا ہوا ہے صہیونی و صلیبی طاقتیں اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی مستی میں مست ہیں اور انہیں دہشت گردی کی شکل میں ایک ایسا گوہر مقصود کلیہ مل چکا ہے جس کی اڑ میں وہ مسلمانوں پر قافیہ حیات تنگ کرنے کا کوئی چانس مس نہیں کریں گے ۔اسلام کے چوکیدار اور خانہ کعبہ کے سجادہ نشین کی شکل میں سعودی عرب کا مقدس ترین فریضہ تو یہ ہے کہ وہ مسلم امہ کی رواداری یکجہتی اتحاد و اتفاق کے لئے ناگزیر اقدامات کرے۔اگر مغرب مسلمانوں کے ساتھ دوستیاں کرنے و نبھانے میں مخلص ہوتا تو مسلم خطوں کو جنگوں کا جہنم بنانے سے گریز کرتا مغرب کی مسلم دشمنی تعصب و بغض کا جیتا جاگتا ثبوت اس مقولے میں دیکھا جاسکتا ہےEAST IS EAST WEST IS WEST BOTH NEVER BECOME TOGATHER
User commentsQuote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.usRead more...
خلق خدا ہمارے گیت گائے گی
 
قائد عوام نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنے دفاعی بیان میں ایک درخشندہ جملہ ایسا بھی کہا تھا جو نہ صرف تاریخ کے ماتھے کی جھومر بن گیا بلکہ وقت نے جملے کی صداقت پر سچائی کی مہر کندن کردی۔بھٹو نے فرمایا مجھے ازیت دینے والوں نے پاکستان کی تذلیل کی ہے۔تیس سے پینتیس سال کی خدمات میرے پس منظر میں کھڑی ہیں۔وقت ہی یہ بتائے گا کہ میرا نام برصغیر کے مجرموں کی فہرست میں درج ہوتا ہے یا پھر ان ہیروز کی لسٹ میں جنکی شہرت و مقبولیت کی خوشبو اس روئے ارض کے ہر کونے تک پھیلتی ہے۔بھٹو صاحب دواپریل1979 کو بینظیر بھٹو سے اخری ملاقات میں پیشین گوئی کرتے ہیں کہ خلق خدا میرے گیت گائے گی اور میںاسکی کہانیوں کا جادواں حصہ بن جاونگا۔چار اپریل1979 اور ستائیس دسمبر2007 دو ایسے ہولناک و غم ناک دنوں کا درجہ رکھتے ہیں جنہوں نے اہل پاکستان کو غموں کی سوغات کا تحفہ دیا۔ان دنوں میں پورا پاکستان ماتم کدہ بن گیا۔ قضا نے زندگی کو کچل دیا۔ قائد کی دھرتی شام غریباں کا منظر پیش کررہی تھی۔ سوات کے پہاڑوں سے لیکر کشمیر کے نخلستانوں تک اور ملتان کے ریگزاروں سے لیکر وادی مہران کے کوہستانوں تک اہوں سسکیوں کی برسات نے ماحول کو رنجیدہ و رنجوڑ بنا رکھا تھا۔مسلم دنیا کا ہر غیور باسی ماتم کنائی کررہا تھا کیونکہ پاکستانیوں اور کرہ ارض کے ہر کونے میں بسنے والے مسلمانوں کو وقت کے سامراج نے میر جعفروں و میرصادقوں کی مدد سے دو ایسے رہنماوں سے محروم کردیا جو امہ کی تقدیر بدلنے کے لئے بے خطر اتش نمرود میں کودے تھے۔چار اپریل کو قائد عوام تختہ دار پر لٹکائے گئے جبکہ ستائیس دسمبر 2007 کو مسلم دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم دختر مشرق کو خود کش حملے کی بھینٹ چڑھایا گیا مگر سچ تو یہ ہے کہ دونوں مر کر ہمیشہ کے لئے لوگوں کے دلوں میں امر ہوگئے جمہوریت فتح سے سرفراز ٹھری۔ڈکٹیٹرشپ ذلت و خواری کا جامہ پہن کر غریق شکست ٹھری۔یہ حقیقت اظہر من التمش ہے کہ بھٹو خاندان برصغیر پاک و ہند کا واحد خاندان ہے جس نے چودہ سو سال پہلے سچ کی راہ میں زندگیاں قربان کرنے والے شہدا کربلا کی یاد تازہ کی۔اہل بیت نے اسلام کی کبریائی کے لئے دھرتی کربلا کی پیاسی زمین کو خون مقدس سے سیراب کیا تو بھٹوز نے مقہور و مجبور عوام کی شہنشاہی جمہوریت کی سربلندی کے لئے اپنے سر کٹوائے۔قائد عوام کو خود ساختہ مرد مومن نے وائٹ ہاوس کے اشارے پر عدالتی قتل کے زریعے پیوند خاک کیا گیا جبکہ بے نظیر کو روشن خیالی کے موجد فرعون نے مذہبی درندوں کی سفاکیت کے کلہاڑے سے شہید کروایا۔ دشمنان پاکستان نے بھٹو کے دونوں وارثوں شاہنواز بھٹو و میر مرتضی بھٹو کو بھی بڑی مکاری سے مروایا دیا۔جرنیلوں کی احسان فروشی پر روح کانپ اٹھتی ہے کیونکہ سقوط ڈھاکہ کے بعد شکست کی تصویر بنکر خمار زدہ سانپوں کی طرح بلوں میں منہ چھپائے ہوئے جرنیلوں کا بھرم قائد عوام نے قائم کیا۔ انہوں نے پاک فوج کے لاغر جسم میں نئی روح پھونکی اور مختصر عرصے میں دفاعی فورسز کو ناقابل تسخیر بنا ڈالا۔اندرا گاندھی نے شملہ مذاکرات کے دوران بھٹو کو مشورہ دیا کہ چند جرنیلوں کو ڈھاکہ بھیج دیں تاکہ ان پر غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں ورنہ یہی جرنیل موقع ملتے ہوئے تمھیں نہیں چھوڑیں گے۔مگر بھٹو نے پاک فوج کی عقیدت و وقار کے لئے اس تجویز کو مسترد کردیا۔بھٹو کو قوم پرستی کی بھیانک سزا بھگنی پڑی۔بھٹو کی پھانسی کے بعد دنیا بھر میں المیہ ادب کی تخلیق ہوئی۔
ایک گوہر نایاب گنوا بیٹھے ہو۔
کس شخص کو سولی پر چڑھا بیٹھے ہو لوگو۔
بھٹو کیس کی حقیقت کا اقرار مرد مومن ڈکٹیٹر کے قریبی پیادے جنرل کے ایم عارف اپنی کتاب میں یوں کرتے ہیں۔سپریم کورٹ نے بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل کا فیصلہ شریف الدین پیرزادہ کے زریعے ضیاالحق کو بھجوایا اور وہاں سے منظوری ملنے کے بعد فیصلہ سنایا۔ترکی میں چالیس سال بعد پارلیمنٹ نے ایک بل پاس کرکے مصلوب وزیر اعظم عدنان میندرس کو تمام الزامات سے بری کردیا اور اسکے جسد خاکی کو گمنام جگہ سے نکال کر ہیروز کے قبرستان میں پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔جنرل ضیا کے پیادوں نے اب برملا تسلیم کرلیا ہے کہ بھٹو کو ناحق تختہ دار پر کھینچا گیا۔عالمی برادری تو پہلے ہی اس کیس کو عدالتی قتل کا لقب دے چکی ہے۔یوں موجودہ قومی اسمبلی کو بھی ایک قرارداد کے زریعے چاروں بھٹوز کو قومی ہیرو کا درجہ دیکر انکی لازوال و باکمال خدمات کے بدلے عظیم والشان یاد گاریں تعمیر کرنی چاہیں تاکہ پاکستان کے ماتھے پر نقش احسان فراموشی کی کالک کو دھویا جاسکے۔بھٹو کی رحلت کے بعد پی پی کے ورکرز مایوس ہوگئے۔پارٹی کی بقا کا مسئلہ درپیش تھا اس نازک گھڑی میں پنکی نام کی نازک لڑکی نے ڈکٹیٹرز کے خلاف صف ارا ہونے کا اعلان کردیا حالانکہ قائد عوام نے اخری ملاقات میں پنکی کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی ملک میں جانے کی اجازت تک دے دی مگر پنکی نے جواب دیا میں کبھی عوام و ورکرز کو بے سائباں چھوڑ کر نہیں جاسکتی پنکی نے عزم وجنون کا نعرہ لگا کر کہا۔۔ہم نہیں جاسکتے ہم کبھی نہیں جائیں گے جرنیلوں کو یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت جائیں۔اگر ہم باہر چلی جائیں تو پھر پی پی کو کون سنبھالے گا اور پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ پنکی نے بے نظیر کے روپ میں ضیائی فاشزم کا پائے استقلال سے نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ ائرن لیڈی نے غدار پارٹی لیڈرز اور جاگیرداروں کی بے وفائیوں کے باوجود پی پی کو ملک کی جوہری جماعت بنا دیا۔بے نظیر بھٹو اکیس جون 1953[L: 8] میں پیدا ہوئیں۔وہ پہلی خاتون تھیں جسے اکسفورڈ ایسی شہرہ عالم یونیورسٹی میں یونین کی صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔زمانہ طاللبعلمی میں برطانیہ کی وزیراعظم مار گریٹ تھیچر نے بینظیر کو ہاوس اف کامن میں چائے کی دعوت دی جو ایک دیوقامت اعزاز تھا۔بی بی کو سیاست دان بننے کا کوئی شوق نہ تھا۔وہ کسی اخبار کی اڈیٹر شپ یا پھر پاکستان کی سفیر بننے کا شوق رکھتی تھیں۔بی بی عظیم و انیق ہستی تھیں۔وہ ملت کے مقدر کا ستارہ اور مقہور طبقوں کے لئے درخشندہ افتاب، دلکش و دل اویز سراپا،جدت و ندرت کا حسین امتزاج انقلاب افریں نظریات اور حریت کیش افکار کی مظہر تھیں۔ بی بی نے پہلی تقریر فیصل اباد میں کی۔وہ عوامی رابطہ کے سلسلے میں وہ ملتان ائیں تو مارشلائی گماشتوں نے ان کے ساتھ غیر اخلاقی و حیوانی سلوک کیا تاکہ اسے خوف و حزن کے چڑیا گھر میں بند کردیا جائے وہ ڈٹ گئی مگرجھکی نہیں۔ضیائی دور کی انتظامیہ پی پی کے وفادار ورکرز کے لئے بھیڑیوں کا روپ دھار گئی ۔کوڑے پھانسیاں تشدد و زندان انکا مقدر بنے۔پی پی کی توڑ پھوڑ کے لئے ضیائی کارپردازان نے ورکروں و لیڈروں پر وحشیانہ مظالم کی جھنکار کی کہ ہلاکو خان کی روح بھی شرمندہ ہوگئی۔بی بی نے جرات و ہمت کی فلک بوس مثالیں قائیم کیں کہ جرنیل ششدر رہ گئے۔بی بی کو پانچ سال تک جیلوں میں ٘قید رکھا گیا۔جنرل ٹکا نے راقم کو بتایا تھا کہ بھٹو خاندان نے مجموعی طور پر پچیس سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔1985 کے الیکشن میں ایم ارڈی نے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تو اس وقت بی بی لندن میں جلاوطنی کی زندگی کی چکی میں پس رہی تھیں۔بی بی نے اے ارڈی کو مشورہ دیا کہ میدان خالی نہ چھوڑا جائے اور ہر صورت میں الیکشن میں حصہ لیا جائے مگر ایم ارڈی نے میدان خالی چھوڑ دیا جسکا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ غیر سیاسی افراد کو اگے انے کا موقع ملا۔سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کا ناسور شامل ہو گیا۔ممبران اسمبلی للچائی ہوئی نظروں سے امروں کے پاوں چاٹ کر دولت کے اسیر بن گئے۔بی بی کو1985 میں ایک اور صدمہ ڈس گیا۔شاہنواز بھٹو پیرس میں ہلاک ہوگئے۔بھٹوز کے لئے یہ دوسرا صدمہ تھا۔بی بی غم زدہ و بوجھل دل کے ساتھ جان سے پیارے بھائی کی میت لیکر واپس ائیں۔شاہنواز کے جنازے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کرکے ضیائی غبار ے سے نہ صرف ہوا نکال دی بلکہ بھائی کی موت کے غم کو بی بی نے عزم میں بدل ڈالا۔بی بی نے بھائی کی موت پر ایک نظم لکھی جس کے چند اشعار یوں تھے۔
وہ پیار حسین نوجوان
ایک امر سے لڑتا رہا
ؔأخری سانس پیارے وطن سے
بہت دور کھینچی
لاکھوں افراد کی دعاوں کے ساتھ
ہم نے اسے دفنایا اسکے وطن کی منٹی میں
جو تھے زندگی میں بھی اسے چاہتے
موت کے بعد بھی انکی چاہت جواں
مرگئے مگر جدو جہد کو جواں کرگئے۔
بی بی کو ابھی یہ معلوم نہ تھا کہ اسے ایک اور بھائی کی موت کا صدمہ سہنا ہے۔دشمنان بھٹوز نے1996 میں میر مرتضی بھٹو کو اس وقت شہید کردیا۔ظلم تو یہ ہے کہ مرتضی کو ستر کلفٹن کے سامنے اس وقت گولیوں سے بھون دیا گیا جب وہ خود سربرائے سلطنت تھیں۔بی بی دومرتبہ وزیراعظم بنیں مگر خفیہ ہاتھوں و جرنیلوں نے دونوں بار انکی حکومت برطرف کردی۔بی بی کی پجارو گاڑی کی ڈگی پر نازاں سفر کرنے والا فاروق لغاری بی بی و پی پی کی سپورٹ سے ایوان صدر کا بگ باس بن گیا مگر وہی قاتل بھی ٹھرا۔فاروق لغاری نے پی پی کی کمر میں چھرا گھونپا اور1996 میںاپنی حکومت کا گلا گھونٹ دیا۔مشرفی دور میں بی بی طویل عرصہ جلاوطن رہیں۔مشرف نے بھی پی پی کو توڑنے اور بدنام کرنے کے لئے بی بی پر من گھڑت الزامات ہانکے مگر پھر ایسا وقت بھی ایا جب مشرف دوبئی میں بی بی کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھے تھے کہ واپس ائیں۔بی بی کی امد پر بیس لاکھ لوگ کراچی کے ایرپورٹ پر جمع تھے۔خاکی ہل کر رہ گئے۔کراچی میں مشرفیوں نے پی پی کی پوری قیادت کو ہلاک کرنے کے لئے خون کی ہولی کھیلی جس میں سینکڑوں ورکرز ہلاک ہوگئے مگر بی بی کو راہ حق سے ہٹانے کی تمام خونی اور بودی سیاہ کاریاں دم توڑ گئیں۔پی پی کی مقبولیت نے قاتلوں کو لرزادیا۔یوں انہوں نے ستائیس دسمبر 2007کو دیوی جمہوریت کا خون نچوڑ لیا مگر پھر بھی انہیں الیکشن میں خفت کا سامنا کرنا پڑا۔پی پی اج بی بی کی شہادت کے کارن ایوان صدر و وزیراعظم ہاوس میں جلوہ گر ہے۔بی بی کی موت ایک عہد کا خاتمہ تھا۔ دنیا کی کئی تنظیموں نے ایوارڈ دیکر بی بی کی خدمات پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے۔پی پی کا اولین فرض ہے کہ وہ بھٹوز کے منشور کی روشنی میں ملک و قوم کی خدمت کریں تاکہ انکی ارواح کو سکون نصیب ہو۔باقی پی پی کو ملیا میٹ کرنے کی خواہش رکھنے والے عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے ہیں کیونکہ بھٹوز کا نام ہمیشہ پاکستانیوں کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا رہے گا۔قائد عوام نے درست ہی کہا تھا کہ خلق خدا میرے گیت گائے گی۔

User commentsQuote this article in websiteFavouredPrintSend to friendRelated articlesSave this to del.icio.usRead more...
<< Start < Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 Next >